سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 151
سیرت المہدی 151 حصہ چہارم رکھا تھا۔نیز حضرت والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ جس چوبارہ میں اس وقت مائی کا کو رہتی ہے جو مرز اسلطان احمد صاحب والے مکان کے متصل ہے اور میرے موجودہ باورچی خانہ کے ساتھ ہے اس میں حضرت صاحب نے وہ لمبے روزے رکھے تھے جن کا حضرت صاحب نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے اور یہی وہ کمرہ ہے جس میں حضرت صاحب نے براہین احمدیہ تصنیف کی تھی۔1207 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی محمداسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کا بچہ مبارک احمد فوت ہوا تو اس وقت میں اور مولوی محمد علی صاحب مسجد مبارک کے ساتھ والے کو ٹھے پر کھڑے تھے۔اس وقت اندرون خانہ سے آواز آئی جو دادی کی معلوم ہوتی تھی کہ ”ہائے او میر یا بچیا“ حضرت صاحب نے دادی کو قتی کے ساتھ کہا کہ دیکھو وہ تمہارا بچہ نہیں تھا۔وہ خدا کا مال تھا جسے وہ لے گیا اور فرمایا یہ نظام الدین کا گھر نہیں ہے۔منشی صاحب کہتے ہیں کہ انہی دنوں نظام الدین کا ایک لڑکا فوت ہوا تھا جس پر ان کا گھر میں دنیا داروں کے طریق پر بہت رونا دھونا ہوا تھا۔سو حضرت صاحب نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ میرے گھر میں یہ بات نہیں ہونی چاہئے۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ کام بہت خراب ہو گیا ہے کیونکہ اس لڑکے کے متعلق حضرت صاحب کی بہت پیشگوئیاں تھیں اور اب لوگ ہمیں دم نہیں لینے دینگے اور حضرت صاحب کو تو کسی نے پوچھنا نہیں۔لوگوں کا ہمارے ساتھ واسطہ پڑنا ہے۔مولوی صاحب یہ بات کر ہی رہے تھے کہ نیچے مسجد کی طرف سے بلند آواز آئی جو نہ معلوم کس کی تھی کہ تریاق لقلوب کا صفحہ چالیس نکال کر دیکھو۔مولوی صاحب یہ آواز سن کر گئے اور تریاق القلوب کا نسخہ لے آئے۔دیکھا تو اس کے چالیسویں صفحہ پر حضرت صاحب نے مبارک احمد کے متعلق لکھا ہوا تھا کہ اس کے متعلق مجھے جو الہام ہوا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ یا تو یہ لڑکا بہت نیک اور دین میں ترقی کرنے والا ہوگا اور یا بچپن میں فوت ہو جائے گا۔مولوی صاحب نے کہا خیر اب ہاتھ ڈالنے کی گنجائش نکل آئی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دادی سے مراد میاں شادی خاں صاحب مرحوم کی والدہ ہے جو مبارک احمد کی کھلا دی تھی اور مبارک احمد اسے دادی کہا کرتا تھا۔اس پر اس کا نام ہی دادی مشہور ہو گیا۔بیچاری بہت مخلص اور خدمت گزار تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد ۱۹۰۷ء میں فوت ہوا تھا جب کہ اس کی عمر کچھ اوپر آٹھ سال کی تھی۔