سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 150
سیرت المہدی 150 حصہ چہارم اپیل منظور ہونے پر وہی افسر مہتم خزانہ ہو گیا تھا جس سے زر جرمانہ ہم نے واپس لینا تھا۔چنانچہ ہم پہلے اس کے مکان پر ( کچہری کے وقت سے پہلے ) گئے اور اس سے ذکر کیا کہ ہم تو جرمانہ واپس لینے کے واسطے۔آئے ہیں۔اس پر وہ مجسٹریٹ بہت نادم سا ہو گیا۔اور اس نے فوراً کہا کہ آپ کو وہ رقم نہیں مل سکتی کیونکہ اس کے لئے خودمرزا صاحب کی دو تخطی رسید لانا ضروری ہے۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ وہ رسید تو میں مرزا صاحب سے لکھوا لایا ہوں۔پھر اس مجسٹریٹ نے کہا کہ پھر بھی یہ رقم آپ کو نہیں دی جاسکتی۔جب تک آپ کے پاس مرز اصاحب کی طرف سے اس امر کا مختار نامہ موجود نہ ہو۔مولوی صاحب نے کہا کہ وہ بھی میں لے آیا ہوں۔اسے لا جواب ہو کر کہنا پڑا کہ اچھا کچہری آنا۔اس موقعہ پر مولوی محمد علی صاحب نے مسیح موعود علیہ السلام کے حضور ایک یہ فقرہ بھی سیشن جج صاحب منظور کنندہ اپیل کی باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ حضور اس سیشن جج نے تو اس قدر زور کے ساتھ حضور کی بریت اور تائید میں لکھا ہے کہ اگر ہم میں سے بھی کوئی اس کرسی پر بیٹھا ہوا ہوتا تو شاید اتنی جرات نہ کر سکتا۔یہ جملہ حالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت خوشی کی حالت میں سنتے رہے تھے۔1206 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ ) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سارے مکان کا نام بیت البرکات رکھا ہوا تھا۔پھر جب وہ مکان بنا جس میں بعد میں میاں شریف رہتے رہے ہیں اور جس میں آج کل ام طاہر احمد رہتی ہیں تو چونکہ اس کا ایک حصہ گلی کی طرف سے نمایاں طور پر نظر آتا تھا اس لئے آپ نے اس کے اس حصہ پر بیت البرکات کے الفاظ لکھوادیئے جس سے بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ شاید یہ نام اسی حصہ کا ہے حالانکہ حضرت صاحب نے اپنے سارے مکان کا نام بیت البرکات رکھا ہوا تھا۔علاوہ ازیں حضرت صاحب نے اپنے مکان کے بعض حصوں کے مخصوص نام بھی رکھے ہوئے تھے مثلاً مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ کا نام بیت الفکر رکھا تھا بلکہ در اصل اس نام میں اس کے ساتھ والا دالان بھی شامل تھا۔اسی طرح نچلی منزل کے ایک کمرہ کا نام جو اس وقت ڈیوڑھی کے ساتھ ہے، بیت النور رکھا تھا اور تیسری منزل کے اس دالان کا نام جس میں ایک زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب رہتے رہے ہیں اور اس وقت ام وسیم احمد رہتی ہیں بیت السلام