سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 143
سیرت المہدی 143 حصہ چہارم 1194 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میاں مبارک احمد صاحب بیمار تھے۔ان کے لئے ڈاکٹروں نے تجویز کی کہ پورٹ وائن ایک چمچہ دی جائے۔چنانچہ ایک بوتل امرتسر یالا ہور سے منگوائی گئی۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کے اس حصہ میں رہتا تھا جہاں حضور کی دواؤں کی الماری تھی۔میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی تشریف لائے۔اُن کے ہاتھ میں بوتل تھی۔انہوں نے بوتل الماری میں رکھ دی اور مجھ سے فرمایا کہ پیر جی پانی چاہئے۔میں نے کہا کیا کرو گے؟ کہا کہ ابا نے فرمایا ہے کہ ہاتھ دھو لینا کیونکہ شراب کی بوتل پکڑی ہے۔پھر ہاتھ دھو لئے۔1195 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں سر کی لیکھ (جوجوں سے چھوٹی ہوتی ہے) بڑے پاور کی خورد بین میں رکھ کر حضور علیہ السلام کو دکھانے کے لئے لے گیا۔حضور نے دیکھنے کے بعد فرمایا۔آؤ میاں بارک اللہ! ( مرزا صاحبزاہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم ) تمہیں عجائبات قدرت دکھلائیں۔اس وقت حضور ڈونگے دالان میں پلنگ پر بیٹھے تھے۔1196 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میاں مبارک احمد صاحب مرحوم حجرے میں بیماری کی حالت میں پڑے تھے۔حجرے کے باہر برآمدہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے۔اور حضور کے سامنے نصف دائرہ میں چند ڈاکٹر صاحبان اور غالباً حضرت خلیفہ اول بھی بیٹھے ہوئے تھے۔درمیان میں پورٹ وائن کی وہی بوتل جو صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم کے لئے منگائی گئی تھی پڑی ہوئی تھی۔میاں مبارک احمد صاحب کے علاج کے لئے دواؤں کی تجویز ہورہی تھی میں بھی ایک طرف کو بیٹھا تھا۔حضرت اقدس نے فرمایا! کہ یہ جو حافظ کہتا ہے۔اں تلخ وش کہ صوفی ام الخبائث خواند اشهى لنا واحلى من قبلة العذارى اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شعر میں حافظ نے ام الخبائث ترک دنیا کو کہا ہے اور تلخ اس لئے کہا کہ