سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 139
سیرت المہدی 139 حصہ چہارم ہو جائے۔تو یہ سن کر پیغمبر اسنگھ بہت خوش ہوا۔اور دوبارہ مجھ سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے ایسا کیا سی۔میں نے کہا۔ہاں کیا سی۔1188 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ آگ کے گولوں والی پیشگوئی جو پچیس دن کے سر پر پوری ہوئی۔جس دن یہ الہام ہوا۔تو اندر سے ایک عورت نے مجھے آکر بتلایا کہ آج حضرت صاحب کو یہ الہام ہوا ہے۔اور کہا الہام بیان کرتے وقت ساتھ ہی حضور نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ مائی تابی نہیں فوت ہوگی جب تک اس پیشگوئی کو پورا ہوتے نہ دیکھ لے۔“ چنانچہ مائی تابی جو اسی برس کے قریب عمر کی ایک عورت تھی۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے بعد فوت ہوئی۔1189 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم پر عنابی رنگ کی بانات کا نہایت نرم چغہ دیکھا تھا۔جس کو ہاتھوں سے مس کر کے خاکسار نے بھی اپنے چہرے پر پھیرا۔جیسا کہ اور لوگ بھی اسی طرح سے برکت حاصل کرتے تھے۔نیز مجھے حضور کے پاس سے خوشبو بھی بہت آتی تھی جو شاید مشک کی ہوگی۔1190 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک مولا بخش صاحب پیشنر کلرک آف کورٹ نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت کی خبر قادیان پہنچی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت پر بہت صدمہ تھا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب احمد نور صاحب کابلی واپس آگئے تھے اور انہوں نے مفصل حالات عرض کر دیئے تھے۔شام کی مجلس میں مسجد مبارک کی چھت پر میں بھی حاضر تھا۔حضور نے فرمایا ہم اس پر ایک کتاب لکھیں گے۔مجھے حضور کے فارسی اشعار کا شوق تھا۔میں نے عرض کیا۔حضور اس میں کچھ فارسی نظم بھی ہو تو مناسب ہوگا۔حضور نے فرمایا۔نہیں۔ہمارا مضمون سادہ ہوگا۔میں شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا کہ میں نے رنج کے وقت میں شعر گوئی کی فرمائش کیوں کر دی۔لیکن جب کتاب تذکرۃ الشہا دتین شائع ہوئی۔تو اس میں ایک لمبی پر درد فارسی نظم تھی۔جس سے مجھے معلوم ہوا کہ حضور اپنے ارادے سے شعر گوئی کی طرف مائل نہیں ہوتے تھے۔بلکہ جب خدا تعالیٰ چاہتا تھا طبیعت کو اُدھر مائل کر دیتا تھا۔