سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 7
سیرت المہدی 7 حصہ چہارم کو وہ خواب بھی سنایا کہ یہ حاکم ہماری مسجد کا فیصلہ نہیں کرے گا۔اس کا فیصلہ کرنے والا اور حاکم ہے۔یہ خواب بھی مدعاعلیہم کو سنادی گئی۔مدعاعلیہم ہماری ان باتوں سے حیرت زدہ ہو جاتے تھے۔کیونکہ فیصلہ میں دوروز باقی تھے اور حاکم اپنا فیصلہ ظاہر کر چکا تھا۔ایک احمدی کہتا ہے۔زمین آسمان ٹل جائیں گے مگر مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو کر رہے گی۔دوسرا کہتا ہے کہ یہ حاکم فیصلہ نہیں کرے گا وہ اور ہے جو فیصلہ کرے گا۔مقررہ دن آگیا مگر حاکم فیصلہ نہیں لکھ سکا۔دوسری تاریخ ڈال دی اور ہر پیشی پر خدا ایسے اسباب پیدا کر دیتا رہا کہ وہ حاکم فیصلہ نہ لکھ سکا۔اس سے مخالفوں میں مایوسی پیدا ہونے لگی کہ کہیں پیشگوئی پوری نہ ہو جائے۔اسی اثناء میں عبدالسمیع احمدی نے ایک رؤیا دیکھا جو اس وقت قادیان میں موجود ہے کہ میں بازار میں جارہا ہوں راستہ میں ایک شخص مجھے ملا اور اس نے کہا کہ تمہاری مسجد کا فیصلہ کرنے والا حاکم فوت ہو گیا ہے۔یہ خواب بھی مخالفوں کو سنادی گئی۔ایک ہفتہ کے بعد عبدالسمیع مذکور بازار میں جارہا تھا کہ اسی موقعہ پر وہ شخص جس نے خواب میں کہا تھا کہ تمہاری مسجد کا فیصلہ کرنے والا حاکم فوت ہو گیا ہے۔اُن کو ملا اور اُس نے حاکم کی موت کی خبر دی۔حاکم کی موت کا واقعہ یوں ہوا۔کہ وہ حاکم کھانا کھا کر کچہری جانے کے واسطے تیاری کر رہا تھا ، سواری آگئی تھی۔خدمت گار کسی کام کے لئے باورچی خانہ میں گیا ہی تھا کہ دفعتاً حرکت قلب بند ہوئی اور وہ حاکم وہیں فوت ہو گیا۔اس کے ماتم پر لوگ عام گفتگو کرتے تھے کہ اب ہمارے پاس مسجد کے رہنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔اس کی جگہ ایک آریہ حاکم فیصلہ کرنے کے لئے مقرر ہوا۔یہ بھی احمدیوں کا سخت دشمن تھا۔اور وہ بھی مخالفوں کی طرف ہی مائل تھا۔آخر وکلاء کی بحث کے بعد یہ بات قرار پائی کہ کسی انگریزی علاقہ کے بیرسٹر سے فیصلہ کی رائے لی جائے۔پچاس روپیہ فریقین سے فیس کے لئے گئے۔اور اُس حاکم نے اپنے قریبی رشتہ دار آریہ بیرسٹر کے پاس مشورہ کے واسطے وہ مسل بھیج دی۔اس جگہ بھی غیر احمد یوں نے بے حد کوششیں کیں۔اور یہ بات قابل غور ہے کہ مقدمہ میں کس طرح پیچ در پیچ پڑتے چلے جارہے تھے۔ہاں عدالت ابتدائی کے دوران میں ایک احمدی نے خواب دیکھا تھا کہ ایک مکان بنایا جارہا ہے۔اس کی چاروں طرف کی دیوار میں غیر احمدی کے واسطے تعمیر کی گئی ہیں۔مگر چھت صرف احمدیوں کے واسطے ڈالی گئی ہے جس کے سایہ میں وہ رہیں گے۔جس سے یہ مراد تھی کہ گو مسل کا فیصلہ غیر احمدیوں کے