سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 131
سیرت المہدی 131 حصہ چہارم استقامت اور شجاعت پیدا ہوتی ہے۔1167 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حافظ معین الدین عرف ما نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیر دباتا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے پیش آمدہ واقعات سناتا رہتا تھا۔مثلاً حضور میں فلاں جگہ گیا۔مجھے روٹی نہیں ملی۔کتے لپٹ گئے۔مجھے سالن کم ملتا ہے۔وغیرہ۔اس قسم کی باتیں وہ کرتا اور حضور اس کی باتیں سنتے۔اور وہ روز اس قسم کی باتیں کرتا اور حضورسن لیتے۔ایک دن میں نے دستک دی کہ حضور میں اندر آنا چاہتا ہوں۔آپ نے کواڑ کھول دئے۔میں اندر جا کر بیٹھ گیا۔میں نے حافظ معین الدین کو بہت ڈانٹا اور سخت ست کہا کہ تم یہ کیا واہیات باتیں کیا کرتے ہو کہ فلاں جگہ روٹی نہیں ملی اور فلاں جگہ سالن کم ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ توجہ الی اللہ میں مجھے اس قدر استغراق ہے کہ اگر میں دنیوی باتیں نہ سنوں تو میرا دماغ پھٹ جائے۔ایسی باتیں ایک طرح سے مجھے طاقت دیتی ہیں۔تھوڑی دیر آپ نے ایسی باتیں کیں اور پھر میں چلا آیا کہ رات زیادہ ہو گئی تھی۔1168 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری حاکم علی صاحب نمبر دار سفید پوش چک نمبر ۹ شمالی ضلع شاہ پور نے بواسطہ مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ مجھ سے بیان کیا کہ ۱۹۰۰ء کے قریب یا اس سے کچھ پہلے کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد مبارک میں صبح کی نماز کے بعد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس وقت جو لوگ یہاں تیرے پاس موجود ہیں اور تیرے پاس رہتے ہیں ان سب کے گناہ میں نے بخش دیئے ہیں۔1169 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری حاکم علی صاحب نمبر دار نے بواسطہ مولوی محمد اسماعیل فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جب ہم پر کوئی تکلیف آتی ہے مثلا کوئی دشمن کبھی مقدمہ کھڑا کر دیتا ہے یا کوئی اور ایسی ہی بات پیش آجاتی ہے تو اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ ہمارے گھر میں آ گیا ہے۔1170 بسم الله الرحمن الرحیم۔چوہدری حاکم علی صاحب نمبر دار سفید پوش نے بواسطہ مولوی