سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 130
سیرت المہدی میری آنکھ کھل گئی۔130 حصہ چہارم (۳) ایک دفعہ میں مسجد احد یہ کپورتھلہ میں عصر کی نماز پڑھ رہا تھا جس میں تشہد میں بیٹھا تو میں نے محراب کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سامنے دیکھا۔(۴) ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب مجھے مدینہ منورہ لے گئے اور جالیوں میں سے میں زیارت قبر کرنا چاہتا ہوں مگر وہ جالی میرے قد سے اونچی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میری دونوں بغلوں میں ہاتھ دے کر اونچا کر دیا۔تو پھر میں نے دیکھا کہ سامنے کی عمارت کوئی نہیں رہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی ہوئی ہے اور آپ بیٹھے ہیں۔(۵) ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مزار پر ساتھ لے گئے۔وہاں پر ایک چبوترہ سا تھا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم رونق افروز تھے اور وہاں کسی قدر فاصلہ پر ایک شخص جرنیلی وردی پہنے ہوئے ایک چبوترے پر بیٹھا تھا۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کہ آپ اسے بیعت فرمالیں۔چنانچہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عربی میں ایک فقرہ فرمایا۔جو مجھے اب یاد نہیں رہا جس کا مطلب یہ تھا کہ تمام نیکیوں کو اختیار کرنا اور تمام بدیوں سے پر ہیز کرنا۔میں بیعت کرنے کے بعد مصافحہ کرنے کے لئے اس شخص کی طرف گیا جو جر نیلی وردی پہنے بیٹھا تھا۔مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جاتے ہوئے روک دیا۔(1) ایک دفعہ تہجد پڑھ رہا تھا کہ ایک دم مجھے اس قدر خوشبو آئی کہ تمام مکان معطر ہو گیا۔میری بیوی سورہی تھی اسے چھینکیں آنے لگی اور انہوں نے کہا کہ تم نے بہت سا عطر ملا ہے۔جس کی وجہ سے مکان معطر ہے۔میں نے کہا میں نے کوئی خوشبو نہیں لگائی۔(۷) ایک دفعہ میں نے خواب میں حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ آپ کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں۔آپ کے پاس تلوار رکھی ہوئی ہے۔جس سے موتی اوپر نیچے جھڑ رہے ہیں۔میں نے یہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ کر بھیجا۔تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ فاروق کی زیارت سے دین میں