سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 114
سیرت المہدی 114 حصہ چہارم السلام مسجد مبارک کی چھت پر تشریف فرما تھے۔پانچ سات خدام سامنے حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔حضرت مولوی صاحب عبد الکریم صاحب مرحوم اس چھت کی شرقی سمت ذرا فاصلہ پر کھڑے ٹہل رہے تھے۔وہاں سے وہ حضرت صاحب کی طرف آئے۔ابھی بیٹھے نہ تھے کہ حضرت صاحب سے مخاطب ہوکر اور خاکسار کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ پٹیالہ والا شیخ جو حضور کے سامنے بیٹھا ہے۔ایہہ ساتھوں گھٹ نیچری نہیں رہیا ہے یعنی یہ ہم سے کم نیچری نہیں رہا اور اس نے سرسید کی بہت سی کتابیں دیکھی ہیں۔یہ حضور کی کشش ہے جو اس کو یہاں کھینچ لائی ورنہ یہ لوگ کسی کے قابو نہیں آنے والے تھے۔یہ سن کر میں حیران رہ گیا کہ مولوی صاحب کو اس وقت حضور سے ایسا کہنے کی کیا سوجھی۔حضرت صاحب نے مولوی صاحب کا یہ کلام سن کر معا خاکسار کی طرف متوجہ ہوکر فر مایا کہ اگر آپ نے سید صاحب کی کتابیں دیکھی ہیں تو بتاؤ آپ کو تصانیف میں سے کون سی کتابیں زیادہ پسند اور مرغوب خاطر ہوئیں۔خاکسار نے تھوڑے تأمل کے بعد عرض کیا کہ اپنی کم علمی اور استطاعت کے باعث خاکسارسید صاحب کی کل تصانیف تو نہیں دیکھ سکا البتہ کوئی کتاب کسی صاحب سے مل گئی تو دیکھ لی یا ان کے چھوٹے چھوٹے رسالے منگا کر بھی دیکھے ہیں۔اخبار تہذیب الاخلاق جو ایک ماہواری رسالہ کی صورت میں علی گڑھ سے شائع ہوتا تھا جس میں سید صاحب مرحوم اور مولوی چراغ علی حیدر آبادی مرحوم اور نواب مہدی علی خان صاحب مرحوم کے مضامین ہوتے تھے۔اس کا کئی سال خاکسار خریدار بھی رہا ہے اور اس کی پچھلی جلدوں کے فائل منگوا کر بھی دیکھے ہیں۔سید صاحب کی تصانیف میں خطبات احمدیہ اور تبیین الکلام مجھے زیادہ پسند آئیں۔پہلی کتاب میں سید صاحب نے اپنے قیام لندن کے وقت قرآن مجید کی بعض آیات پر جو عیسائیوں نے اعتراض کئے تھے وہاں میوزیم کے پرانے کتبے اور قدیم اسناد سے ان کے جوابات دیئے ہیں جو ایک اہم اسلامی خدمت ہے۔ایسا ہی دوسری کتاب میں صفحات کے تین کالم بنا کر ایک میں توریت۔دوسرے میں انجیل اور تیسرے میں قرآن مجید کی متحد المضامین آیات درج کی ہیں جس سے اُن کی غرض یہ ثابت کرنا ہے کہ جب وہی مضامین ان کی مسلمہ الہامی کتب میں ہیں تو قرآن مجید کے الہامی ہونے سے اُن کو انکار کا کیا حق حاصل ہے؟ خاکسار کی یہ گفتگو سن کر حضرت صاحب نے فرمایا۔سید صاحب کی مصنفہ کتب آپ نے کیوں دیکھیں۔