سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 112
سیرت المہدی 112 حصہ چہارم جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی میں قیام فرما تھے۔اور وہاں کے لوگوں نے تجویز کی کہ مولوی نذیر حسین صاحب حضرت صاحب سے بحث کریں۔تو مولوی نذیرحسین نے بحث کرنے سے انکار کر دیا۔حضور نے مولوی نذیر حسین صاحب کو خط لکھا تھا۔کہ میں جامع مسجد میں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلائل بیان کروں گا۔آپ اگر تم کھا کر کہ دیں کہ یہ میچ نہیں ہیں تو پھر ایک سال کے اندرا اگر آپ پر عذاب نہ آئے تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔اس کا جواب مولوی نذیر حسین نے کوئی نہ دیا۔جواب نہ آنے پر حضور نے ایک دوسرا خط لکھا جو محمد خان صاحب اور خاکسار لے کر مولوی نذیر حسین کے پاس گئے۔اس میں حضور نے لکھا تھا کہ کل ہم جامع مسجد میں پہنچ جائیں گے۔اگر تم نہ آئے تو خدا کی لعنت ہوگی۔یہ خط جب ہم لے کر گئے تو مولوی نذیر حسین نے ہمیں کہا کہ تم باہر مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس چل کر بیٹھو۔خط انہیں دے دو۔میں آتا ہوں۔مولوی محمد حسین نے وہ خط کھول لیا۔پھر مولوی نذیر حسین صاحب آگئے۔اور انہوں نے مولوی محمد حسین سے پوچھا کہ خط میں کیا لکھا ہے۔مولوی محمد حسین نے کہا میں سنا نہیں سکتا۔آپ کو بہت گالیاں دی ہیں۔اس وقت ایک دہلی کا رئیس وہاں بیٹھا تھا۔اور اس نے بھی مولوی محمد حسین کے پاس بیٹھے وہ خط پڑھ لیا تھا۔اس نے کہا۔خط میں تو کوئی گالی نہیں۔مولوی نذیرحسین نے اسے کہا۔تو بھی مرزائی ہو گیا ہے۔وہ پھر چپ ہو گیا۔پھر ہم نے مولوی نذیر حسین سے کہا۔آپ نے جو کچھ جواب دینا ہو دے دیں۔مولوی محمد حسین نے کہا ہم کوئی جواب نہیں دیتے۔تم چلے جاؤ تم اپیچی ہو۔خط تم نے پہنچا دیا ہے۔ہم نے کہا ہم جواب لے کر جائیں گے۔پھر لوگوں نے کہا۔جانے دو۔غرض انہوں نے جواب نہیں دیا۔اور ہم نے سارا واقعہ حضرت صاحب کے پاس آکر عرض کر دیا۔اگلے دن ہم سب جامع مسجد میں چلے گئے۔ہم بارہ آدمی حضرت صاحب کے ساتھ تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔محمد خان صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب منشی اروڑ ا صاحب، حافظ حامد علی صاحب، مولوی عبد الکریم صاحب۔محمد سعید صاحب جو میر ناصر نواب صاحب کے بھانجے تھے اور خاکسار۔باقیوں کے نام یاد نہیں رہے۔جامع مسجد کے بیچ کے دروازہ میں ہم جا کر بیٹھ گئے۔حضرت صاحب بھی بیٹھ گئے۔یہ یاد پڑتا ہے کہ سید امیر علی اور سید فضیلت علی سیالکوٹی بھی تھے۔دروازے کے دائیں طرف یعنی دریچے کی طرف ہم تھے۔اور فرش کے ایک طرف مولوی نذیر حسین اور