سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 102 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 102

سیرت المہدی 102 حصہ چہارم کے بھی جان کا خطرہ ہو۔پھر خاکسار کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ جن امور سے ڈاکٹر لوگ منع کرتے ہیں ان کی پابندی کرو۔اور خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے جب تک بغیر آپریشن کے کام چلتا ہے چلاتے جاؤ۔بات یہیں ختم ہوگئی۔حضرت مولوی صاحب نے مسجد سے آنے پر خاکسار سے فرمایا کہ جب حضرت صاحب نے آپریشن کی مخالفت فرمائی ہے اس لئے اب آپریشن کا ارادہ ترک کر دو۔اور جیسا حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔اس پر عمل پیرا ہو جاؤ۔اس بات کو ۴۵ سال سے متجاوز عرصہ ہوتا ہے۔خاکسار کو خطرہ کی کوئی حالت لاحق نہیں ہوئی۔اور اب تو عمر کی آخری سٹیج ہے۔اس وقت بھی جب تک کسی شخص کو خاص طور پر علم نہ ہو۔کوئی جانتا بھی نہیں کہ مجھے ایسا دیرینہ مرض لاحق ہے۔میرا ایمان ہے کہ بعض اوقات ان مقدس اور مبارک زبانوں سے جو الفاظ شفقت اور ہمدردی کا رنگ لئے ہوئے ہوتے ہیں۔تو وہ بھی ایک دُعائی کیفیت اختیار کر کے مقرون اجابت ہو جاتے ہیں۔1129 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا نظام دین کے متعلق یہ پیشگوئی کی کہ اُن کے گھر فلاں تاریخ کو کوئی ماتم ہوگا۔لیکن جب تاریخ آئی اور شام کا وقت قریب ہو گیا اور کچھ بات ظہور میں نہ آئی تو تمام مخالفین حضرت صاحب کے گھر کے اردگر دٹھٹھا اور مخول کے لئے جمع ہو گئے۔سورج غروب ہونے لگا یا ہو گیا تھا۔کہ اچانک مرز انظام الدین کے گھر سے چیخوں کی آواز شروع ہوگئی۔معلوم کرنے پر پتہ لگا۔کہ الفت بیگم والدہ مرزا ارشد بیگ فوت ہوگئی ہیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر اس وقت سے ہوں جب کہ ابھی بشیر اول پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔1130 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ بعض دفعہ مرزا نظام الدین کی طرف سے کوئی رذیل آدمی اس بات پر مقرر کر دیا جاتا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دے۔چنانچہ بعض دفعہ ایسا آدمی ساری رات گالیاں نکالتا رہتا تھا۔آخر جب سحری کا وقت ہوتا تو حضرت جی دادی صاحبہ کو کہتے کہ اب اس کو کھانے کو کچھ دو۔یہ تھک گیا ہو گا۔اس کا گلا خشک ہو گیا ہو گا۔میں حضرت جی کو کہتی کہ ایسے کم بخت کو کچھ نہیں دینا