سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 96
سیرت المہدی 96 حصہ چہارم ایک خاص مضمون کی تحریر میں مصروف تھے۔اس لئے وقت نہیں مل سکا۔وہ کیا کام تھا۔خاکسار نے عرض کیا کہ کچھ ایسی ضروری بات نہ تھی اگر ضرورت ہوئی تو میں پٹیالہ سے بذریعہ خط عرض کر دوں گا۔حضرت صاحب نے فرمایا اگر کوئی خاص بات ہے تو اب بھی کہی جاسکتی ہے کیونکہ اس وقت اپنے ہی احباب بیٹھے ہیں میں بوجہ حجاب سا محسوس ہونے کے خاموش رہا کہ حضرت مولوی صاحب نے بوجہ اس حال کے واقفیت کے فرمایاوہ رقعہ میرے مشورہ سے ہی تحریر میں آیا تھا۔مرض کے مفصل حالات بیان کر کے فرمایا کہ چونکہ خطرہ ڈبل ہے اس لئے میں نے ہی ان کو یہ دعا کرانے کا مشورہ دیا تھا۔حضور نے یہ سن کر ہنستے ہوئے فرمایا کہ اگر یہی کام ہے تو دعا کے لئے ایسا اچھا وقت اور کون سا ہوگا اور اسی وقت مجمع سمیت دعا فرمائی۔دعا سے فارغ ہو کر میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ بس اتنی ہی بات تھی یا کچھ اور بھی۔میں نے عرض کیا کہ بس حضور دعا ہی کے لئے عرض کرنا تھا۔اُسی حالت مرض و کمزوری میں بچہ پیدا ہوا۔جس کا کمزور ہونا ضروری تھا۔بذریعہ خطوط حضرت مولوی صاحب کے مشورہ سے معالجہ وغیرہ ہوتا رہا۔رفتہ رفتہ ہر دو ( یعنی زچہ و بچہ ) کو افاقہ اور صحت حاصل ہوئی۔میری اولاد میں صرف وہی بچہ زندہ سلامت ہے۔بشیر احمد نام ہے۔اور ایم اے علیگ ایل ایل بی ہے۔دو بچوں کا باپ ہے ( جن کے نام سلیم احمد اور جمیل احمد ہیں ) دفتر ریو نیومسٹر صاحب پٹیالہ میں آفس سپر نٹنڈنٹ ہے۔اس کی تعلیم بھی بالکل مخالف حالات ماحول میں محض خدا کے فضل سے ہوتی رہی۔میرا ایمان ہے کہ یہ سب حضرت اقدس کی اس خاص دعا اور اس کی استجابت کا ظہور ہے اور ظہور بھی ایک خاص معجزانہ رنگ میں۔1123 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ منشی علی گوہر صاحب کپورتھلہ میں ڈاک خانہ میں ملازم تھے۔اڑھائی روپیہ ان کی پینشن ہوئی۔گزارہ اُن کا بہت تنگ تھا۔وہ جالندھر اپنے مسکن پر چلے گئے۔انہوں نے مجھے خط لکھا کہ جب تم قادیان جاؤ تو مجھے ساتھ لے جانا۔وہ بڑے مخلص احمدی تھے۔چنانچہ میں جب قادیان جانے لگا تو اُن کو ساتھ لینے کے لئے جالندھر چلا گیا۔وہ بہت متواضع آدمی تھی۔میرے لئے انہوں نے پر تکلف کھانا پکوایا اور مجھے یہ پتہ لگا کہ انہوں نے کوئی برتن وغیرہ بیچ کر دعوت کا سامان کیا ہے۔میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ہم حج کو