سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 94
سیرت المہدی 94 حصہ چہارم ماموری کے بعد بڑے تامل سے اپنے والد صاحب کے اس وعدہ کرنے پر کہ عنقریب تبادلہ ہو جائے گا۔بادِلِ ناخواستہ حاضر ہوا۔اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پے در پے تبادلہ کے لئے لکھتا رہا۔کافی عرصہ کے بعد جب تبادلہ سے ناامیدی سی ہوگئی تو میں نے ارادہ کیا کہ خواہ کچھ ہو۔اپنے والد صاحب سے اجازت لئے بغیر استعفیٰ پیش کردوں گا۔خدا رازق ہے کوئی اور سبیل معاش پیدا کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مولوی عبد الکریم صاحب کے ہاتھ کا خط لکھا ہوا موصول ہوا۔اس میں تحریر تھا کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ خط میں جو تکالیف آپ نے اپنی ملازمت میں لکھی ہیں۔اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق خدا آپ کے طرز عمل سے بہت آسائش اور اطمینان کی حالت میں ہے۔اور آپ کو خدا نے خدمت خلق کا بہترین موقعہ عطا فرمایا ہے جس کو باسلوب انجام دیتے ہوئے خدا کا شکر بجالا ؤ۔رہا تکالیف کا معاملہ سوکوئی نیکی نہیں جو بلا تکلیف حاصل ہو سکے۔دعائیں کرتے رہو۔خدا اس سے کوئی بہتر صورت پیدا کر دے گا۔اور جب تک کوئی دوسری صورت پیدا نہ ہو۔استعفیٰ کا خیال تک دل میں نہ لاؤ۔کیونکہ دنیا دارالابتلاء ہے اور انسان یہاں بطور امتحان بھیجا گیا ہے۔جو شخص ملازمت کو چھوڑتا اور اس کے بعد کسی دوسری سبیل کی تلاش میں ہوتا ہے۔اکثر اوقات ابتلاء میں پڑ جاتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی آزمائش میں پورا اُترنے کی بجائے خدا کو آزمانا چاہتا ہے کہ ہم نے ملازمت چھوڑی ہے۔دیکھیں اس کے بعد اب خدا اس سے بہتر صورت ہمارے واسطے کیا کرتا ہے۔یہ طریق گستاخانہ ہے۔اس لئے بنے ہوئے روز گارکواس سے قبل چھوڑ نا کہ جب خدا اس کے لئے کوئی اُس سے بہتر سامان مہیا فرمائے۔ہمارے مسلک کے خلاف ہے۔اس جواب کے موصول ہونے پر خاکسار نے وہ ارادہ ترک کر دیا۔اور صیغہ پولیس ہی سے پینشن یاب ہوا۔1122 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے گھر میں بوجہ کمزوری قوی وغیرہ دیرینہ مرض اٹھرا تھا۔تقریبا دس بچے صغیر سنی ، شیر خوارگی میں ضائع ہو گئے ہوں گے۔ہمیشہ حضرت مولوی (نورالدین) صاحب کا معالجہ جاری رہتا مگر کامیابی کی صورت نہ پیدا ہوئی۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ حالات سن کر مولوی صاحب نے از راہ شفقت نکاح ثانی کا اشارہ بھی