سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 82

سیرت المہدی 82 حصہ اوّل 103 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا کرتے تھے حضرت خلیفہ اؤل کہ جب میں جموں کی ملازمت سے فارغ ہو کر بھیرہ آیا تو میں نے بھیرہ میں ایک بڑا مکان تعمیر کرانا شروع کیا اور اس کے واسطے کچھ سامان عمارت خریدنے کے لئے لاہور آیا۔لاہور آ کر مجھے خیال آیا کہ چلو قادیان بھی ایک دن ہوتے آویں۔خیر میں یہاں آیا۔حضرت صاحب سے ملا تو حضور نے فرمایا مولوی صاحب اب تو آپ ملازمت سے فارغ ہیں امید ہے کچھ دن یہاں ٹھہریں گے۔میں نے عرض کیا ہاں حضور ٹھہروں گا۔پھر چند دن کے بعد فرمانے لگے مولوی صاحب آپ کو کیلے تکلیف ہوتی ہوگی اپنے گھر والوں کو بھی یہاں بلالیں۔میں نے گھر والوں کو بھیرہ خط لکھ دیا کہ عمارت بند کر دو اور یہاں چلے آؤ۔پھر ایک موقعہ پر حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ مولوی صاحب اب آپ اپنے پچھلے وطن بھیرہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں دل میں بہت ڈرا کہ یہ ہوسکتا ہے کہ میں وہاں کبھی نہ جاؤں مگر یہ کس طرح ہوگا کہ میرے دل میں بھی بھیرہ کا خیال نہ آوے مگر مولوی صاحب فرماتے تھے کہ خدا کا ایسا افضل ہوا کہ آج تک میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ بھیرہ بھی میرا وطن ہوتا تھا۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب غالباً جموں کی ملازمت سے ۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء میں فارغ ہوئے تھے اور ۱۸۹۲ء یا ۱۸۹۳ء میں قادیان آگئے تھے۔) 104 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہماری جتنی عربی تحریریں ہیں یہ سب ایک رنگ کی الہام ہی ہیں کیونکہ سب خدا کی خاص تائید سے لکھی گئی ہیں۔فرماتے تھے بعض اوقات میں کئی الفاظ اور فقرے لکھ جاتا ہوں مگر مجھے ان کے معنے نہیں آتے پھر لکھنے کے بعد لغت دیکھتا ہوں تو پتہ لگتا ہے۔نیز مولوی صاحب موصوف بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب عربی کتابوں کی کا پیاں اور پروف حضرت خلیفہ اول اور مولوی محمد احسن صاحب کے پاس بھی بھیجا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر کسی جگہ اصلاح ہو سکے تو کر دیں۔حضرت خلیفہ اول تو پڑھ کر اسی طرح واپس فرما دیتے تھے لیکن مولوی محمد احسن صاحب بڑی محنت کر کے اس میں بعض جگہ اصلاح کے طریق پر لفظ بدل دیتے تھے۔مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے ایک وقت فرمایا کہ مولوی