سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 81
سیرت المہدی 81 حصہ اوّل نکاح ہوا ہے اور مہر ایک سو روپیہ رکھا گیا ہے اس پر انہوں نے مان لیا۔پھر رخصتانہ بھی خفیہ ہوا۔لیکن آخر ماسٹر قادر بخش صاحب کا والد بھی راضی ہو گیا۔نیز میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ جب حضرت صاحب سرہند تشریف لے گئے تھے تو اسی سفر میں تھوڑی دیر کے لئے سنور بھی گئے تھے۔102 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول بیان کیا کرتے تھے کہ جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو یہاں چھوٹی مسجد کے پاس جو چوک ہے اس میں یکہ پر سے اترا اور پھر میں نے یکہ والے سے یا شاید فرمایا کسی سے پوچھا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں ؟ اس وقت مرزا امام الدین اور مرز انظام الدین اپنے صحن میں چار پائیوں پر مجلس لگائے بیٹھے تھے اس نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ ہیں۔میں نے ادھر دیکھا تو میرا دل بیٹھ گیا اور میں نے یکہ والے سے کہا ابھی نہ جاؤ ذرا ٹھہر جاؤ شاید مجھے ابھی واپس جانا پڑے۔پھر میں آگے بڑھ کر اس مجلس میں گیا لیکن میرے دل میں ایسا اثر تھا کہ میں جا کر بغیر سلام کئے چار پائی پر بیٹھ گیا۔مرزا امام الدین یا شاید فرمایا مرزا نظام الدین نے میرا نام پوچھا میں نے بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ شاید مرزا صاحب کو ملنے آئے ہیں۔مولوی صاحب فرماتے تھے تب میری جان میں جان آئی کہ یہاں کوئی اور مرزا بھی ہے۔پھر میرے ساتھ انہوں نے ایک آدمی کر دیا جو مجھے چھوٹی مسجد میں چھوڑ گیا۔اس وقت حضرت صاحب مکان کے اندر تشریف رکھتے تھے آپ کو اطلاع کرائی گئی تو فرمایا میں ظہر کی نماز کے وقت باہر آؤں گا۔پھر حضور تشریف لائے تو میں ملا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب براہین احمدیہ کے زمانہ میں یہاں آئے تھے اور مولوی شیر علی صاحب بیان کرتے تھے کہ حضرت صاحب نے کہیں لکھا ہے کہ میں دعا کیا کرتا تھا کہ خدا مجھے موسیٰ کی طرح ہارون عطا کرے پھر جب مولوی صاحب آئے تو میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ ھذا دعائی۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آئینہ کمالات اسلام میں اپنی اس دعا کا ذکر کیا ہے مگر حضرت موسیٰ اور ہارون کی مثال اس جگہ نہیں دی اور عجیب بات ہے کہ جیسا کہ حضرت مولوی صاحب کی تحریر مندرجہ کرامات الصادقین میں درج ہے۔حضرت مولوی صاحب کو بھی اپنی طرف کسی ایسے مرد کامل کی تلاش تھی جو اس پُر آشوب زمانہ کے فتنوں کا مقابلہ کر سکے اور اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کر کے دکھا سکے۔)