سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 826
سیرت المہدی 826 حصہ سوم کے مہدی کے انکار کا خفیہ پمفلٹ) بددعا بھی کی ہے۔مگر اس قسم کی ہر ایک بات ضرورتا اور صرف رضائے الٹی اور دین کے مفاد کے لئے کی ہے نہ کہ ذاتی غرض سے۔آپ نے جھوٹے کو جھوٹا کہا۔جنہیں لٹیم یا زنیم لکھا وہ واقعی لیم اور زنیم تھے۔جن مسلمانوں کو غیر مسلم لکھا وہ واقعی غیر مسلم بلکہ اسلام کے حق میں غیر مسلموں سے بڑھ کر تھے۔مگر یہ یا درکھنا چاہئے کہ آپ کے رحم اور عفو اور نرمی اور حلم والی صفات کا پہلو بہت غالب تھا۔یہاں تک کہ اس کے غلبہ کی وجہ سے دوسرا پہلو عام حالات میں نظر بھی نہیں آتا تھا۔آپ کو کسی نشہ کی عادت نہ تھی۔کوئی لغو حرکت نہ کرتے تھے، کوئی لغو بات نہ کیا کرتے تھے، خدا کی عزت اور دین کی غیرت کے آگے کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔آپ نے ایک دفعہ علانیہ ذب تہمت بھی کیا۔ایک مرتبہ دشمن پر مقدمہ میں خرچہ پڑا۔تو آپ نے اس کی درخواست پر اُسے معاف کر دیا۔ایک فریق نے آپ کو قتل کا الزام لگا کر پھانسی دلانا چاہا مگر حاکم پر حق ظاہر ہو گیا۔اور اس نے آپ کو کہا۔کہ آپ ان پر قا نو نا دعوی کر کے سزا دلا سکتے ہیں مگر آپ نے درگذر کیا۔آپ کے وکیل نے عدالت میں آپ کے دشمن پر اس کے نسب کے متعلق جرح کرنی چاہی۔مگر آپ نے اُسے روک دیا۔غرض یہ کہ آپ نے اخلاق کا وہ پہلو دُنیا کے سامنے پیش کیا۔جو معجزانہ تھا۔سراپا حسن تھے۔سراسر احسان تھے۔اور اگر کسی شخص کا مثیل آپ کو کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ ہے۔صلے اللہ علیہ وسلم اور بس۔آپ کے اخلاق کے اس بیان کے وقت قریباً ہر خلق کے متعلق میں نے دیکھا کہ میں اسکی مثال بیان کر سکتا ہوں۔یہ نہیں کہ میں نے یونہی کہدیا ہے۔میں نے آپ کو اس وقت دیکھا۔جب میں دو برس کا بچہ تھا۔پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں ستائیس سال کا جوان تھا۔مگر میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں۔کہ میں نے آپ سے بہتر ، آپ سے زیادہ خلیق ، آپ سے زیادہ نیک ، آپ سے زیادہ بزرگ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا۔آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر