سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 827
سیرت المہدی 827 حصہ سوم بری اور اسے شاداب کر گئی۔اگر حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی۔کہ كان خلقه القرآن تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ کان خلقُهُ حُبَّ محمد واتباعه عليه الصلوة والسلام خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے اپنی اس روایت میں ایک وسیع دریا کوکوزے میں بند کرنا چاہا ہے۔ان کا نوٹ بہت خوب ہے اور ایک لمبے اور ذاتی تجربہ پر مبنی ہے اور ہر لفظ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ہے۔مگر ایک دریا کو کوزے میں بند کر نا انسانی طاقت کا کام نہیں۔ہاں خدا کو یہ طاقت ضرور حاصل ہے اور میں اس جگہ اس کوزے کا خاکہ درج کرتا ہوں جس میں خدا نے دریا کو بند کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " 66 ” جرى الله في حلل الانبياء “ یعنی خدا کا رسول جو تمام نبیوں کے لباس میں ظاہر ہوا ہے۔اس فقرہ سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیکوئی جامع تعریف نہیں ہوسکتی۔آپ ہر نبی کے ظل اور بروز تھے اور ہر نبی کی اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاقی طاقتیں آپ میں جلوہ فگن تھیں۔کسی نے آنحضرت سے متعلق کہا ہے اور کیا خوب کہا ہے:۔حسن یوسف ، دم عیسے ید بیضا داری آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری یہی ورثہ آپ کے ظل کامل نے بھی پایا مگر لوگ صرف تین نبیوں کو گن کر رہ گئے۔خدا نے اپنے کوزے میں سب کچھ بھر دیا۔اللهم صل عليه وعلى مطاعه محمد وبارک وسلم و احشرنی ربّ تحت قدميهما ذلک ظنی بک ارجو منک خیرا۔آمین ثم آمین اس جگہ سیرۃ المہدی کاحصہ سوم ختم ہوا۔واخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العلمين)