سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 820 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 820

سیرت المہدی 820 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ بسر اواں قادیان سے مشرق کی طرف ہے اور بتر شمال کی طرف ہے اور نگل جنوب کی طرف ہے اور بٹالہ مغرب کی طرف ہے۔965 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں معراج الدین صاحب عمر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کے متعلق الفضل مورخہ ۱۳ اگست ۱۹۳۷ء میں ایک مضمون شائع کرایا تھا۔اس میں وہ لکھتے ہیں کہ :۔جن لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ان میں سے ایسے بہت اصحاب موجود ہیں۔جنہوں نے آپ کی زبان مبارک سے بار ہا سنا کہ آپ اپنی عمر کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم پیدا ہوئے تو پھاگن کا مہینہ تھا (یا درکھنا چاہئے کہ ہمارے ملک میں ہندی بکرمی سنہ مروج ہے اور اس پھاگن سے مراد وہی مروجہ بکرمی سن ہے۔) اور جمعہ کا روز تھا۔پچھلی رات کا وقت تھا۔اور قمری حساب سے چاند کی چودھویں رات تھی۔یہی بات اخی مکرمی حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے اپنی کتاب ذکر حبیب کے صفحہ نمبر ۲۳۹ پرلکھی تھی۔جس کو ناظرین دیکھ سکتے ہیں۔اگر چہ یہ بات مجھے یاد بھی تھی۔لیکن حال میں ذکر حبیب کے مطالعہ سے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ بیان مستحضر ہو گیا ہے۔اور میں نے تحقیق کرنا شروع کردی۔کیونکہ میرے دل میں تحقیق کرنے کی زور سے تحریک پیدا ہوئی۔خوش قسمتی سے میری مرتبہ کتاب تقویم عمری جو ایک سو پچیس برس کی جنتری کے نام سے بھی موسوم ہے۔میرے سامنے آگئی اور میں نے غور سے اس کا مطالعہ کیا یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ولادت کے سال اور وقت کے متعلق فرمایا ہے۔اس کی تلاش سے یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ آپ کی ولادت جس جمعہ کو ہوئی تھی وہ ۱۴ ماہ رمضان المبارک ۱۲۴۷ ہجری کا دن تھا۔اور بحساب سمت بکرمی یکیم پھا گن سمہ ۱۸۸۸ کے مطابق تاریخ تھی جو عیسوی سن کے حساب سے ۱۷ فروری ۱۸۳۲ء کے مطابق ہوتی ہے۔پس اس طریق سے حضور موصوف کی عمر ہر حساب سے حسب ذیل ثابت ہوتی ہے۔(الف) بحساب سمت ہندی بکرمی آپ یکم بھا گن سمہ ۱۸۸۸ بکرمی کو پیدا ہوئے اور جیٹھ سمہ