سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 814
سیرت المہدی 814 حصہ سوم دنوں میں کھانا کھلانے کا انتظام محمد سعید کے سپر د تھا۔وہ حضرت مولوی صاحب سے کسی بات پر ناراض ہوا اور ارادتا ان کے آگے خراب دال اور خراب روٹیاں رکھتا اور دیگر مہمانوں کے آگے سالن یا تازہ کھانا اور اچھی روٹی رکھتا تھا مگر حضرت مولوی صاحب بکمال بے نفسی و مسکینی مدتوں اسی کھانے کو کھاتے رہے اور کوئی اشارہ تک اس کی اس حرکت کے متعلق نہ کیا۔پھر اس کے بعد وہ زمانہ آیا کہ لوگ اپنے گھروں میں انتظام کھانے کا کرنے لگے تو ان دنوں میں چند دفعہ ایسا ہوا کہ حضرت مولوی صاحب اگر کبھی بیمار ہوتے اور حضرت صاحب کو معلوم ہوتا کہ مولوی صاحب کے کھانے کا انتظام ٹھیک نہیں ہے آپ اپنے ہاں سے ان کے لئے کھانا بھجوانا شروع کر دیتے تھے جو مدت تک با قاعدہ ان کے لئے جاتا رہتا تھا۔954 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے لا ہور کی پہلی شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گورداسپور میں کرائی تھی۔جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی کو دیکھنے کے لئے حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تا کہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت وشکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔چنانچہ وہ عورت گئی۔جاتے ہوئے اسے ایک یاداشت لکھ کر دی گئی۔یہ کاغذ میں نے لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المؤمنین لکھوایا تھا۔اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں۔مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔قد کتنا ہے۔اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں ، ناک، ہونٹ ، گردن، دانت، چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل وصورت کے متعلق لکھوا دی تھیں کہ ان کی بابت خیال رکھے اور دیکھ کر واپس آکر بیان کرے۔جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے ان سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا تو رشتہ ہو گیا۔اسی طرح جب خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب ( یعنی خلیفہ لمسیح الثانی) کے لئے پیش کی۔تو ان دنوں میں یہ خاکسار ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس چکرانہ پہاڑ پر جہاں وہ متعین تھے بطور تبدیل آب و ہوا کے گیا ہوا تھا۔واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا۔پھر حضرت میاں صاحب سے بھی شادی سے پہلے کئی لڑکیوں کا نام لے لے کر حضور نے ان کی والدہ