سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 810
سیرت المہدی 810 حصہ سوم دفعہ کا سبق شعروں میں بنا کر دیا تھا۔پھر میں نے دیکھا کہ دو تین سال بعد تھوڑے تغیر کے ساتھ وہی اشعار آپ نے انجام آتھم میں درج کر دئے اور وہ شعر جو اس وقت یاد کرائے تھے یہ ہیں:۔ا اطع ربّك الجبّار اهل الاوامر وخف قهره واترك طريق التجاسر اپنے جبار اور صاحب حکم رب کی اطاعت کر اور اس کے قہر سے ڈر اور دلیری کا طریقہ چھوڑ دے ٢۔وكيف على نار النهابر تصبر وانت تأذى عنــد حـر الهـواجـر اور تو دوزخ کی آگ پر کس طرح صبر کرے گا حالانکہ تجھے تو دوپہر کی گرمی سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ووالله ان الفسق صِل مدمر كَمَلْمَسِ أَفعى ناعم في النواظر اور خدا کی قسم بدکاری ایک ہلاک کر نیوالا سانپ ہے جو سانپ کی کھال کی طرح دیکھنے میں اچھی معلوم ہوتی ہے۔۴۔فلا تختروا الطغواى فإنّ الهنا غيور على حرماته غیر قاصر پس سرکشی نہ اختیار کرو کیونکہ ہمارا خدا بڑا غیرتمند ہے اور اپنی حرام کی ہوئی چیزوں کے کرنے والے کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑے گا۔۔ولا تقعدن يا بنَ الكِرَام بمفسد فترجع من حـب الشـريـر كـخـاسـر اور اے بزرگوں کے بیٹے تو شریروں کے پاس نہ بیٹھا کر کیونکہ تو شریروں سے محبت کر کے نقصان ہی اٹھائے گا۔۔ولا تحسبن ذنبًا صغيرًا كهين فان وداد الذنب احدى الكبائر اور چھوٹے گناہ کو ہلکا نہ سمجھ کیونکہ چھوٹے گناہوں کر پسند رکھنا خود ایک کبیرہ گناہ ہے۔واخر نصحى توبة ثم توبة وموت الفتى خير له من مناكر اور میری آخری نصیحت یہ ہے کہ تو بہ کر پھر توبہ کر اور ایک جوان کا مر جانا اس کے گناہ کرنے سے اچھا ہے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شعر نمبر۳ اور ۶ میں انجام آتھم میں درج کرتے وقت کچھ تبدیلی کی ہے۔نمبر ۳ کا مصرعہ اس طرح کر دیا ہے۔”و حُبّ الهوى وَاللهِ صلّ مدمر“ اور نمبر 4 کے مصرعہ میں۔الذنب کی جگہ اللمم کا لفظ رکھ دیا ہے۔