سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 807
سیرت المہدی 807 حصہ سوم آپ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا گیا۔میں بھی سفر میں آنحضور کے قدموں میں تھا۔حضور ہنس کر فرمانے لگے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتظام ہے جو اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے۔242 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت لدھیانہ میں حضرت صاحب کا مباحثہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ہوا۔تو یہ مباحثہ دیکھ کر میاں نظام الدین لدھیانہ والا احمدی ہو کر قادیان میں آیا۔وہ بیان کیا کرتا تھا کہ میں کس طرح احمدی ہوا۔کہتا تھا کہ مولوی محمد حسین نے مجھ کو کہا کہ مرزا صاحب سے دریافت کرو کہ کیا حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر نہیں ہیں؟ میں نے جا کر حضرت صاحب سے دریافت کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ اگر آپ کے پاس حیات مسیح کا کوئی ثبوت ہو تو ایک دو آیات قرآن شریف سے لاکر پیش کریں۔میں نے کہا۔ایک دو کیا ہم تو ایک سو آیت قرآن شریف سے پیش کر دینگے۔آپ نے فرمایا جاؤ جاؤ لاؤ۔جب میں مولوی محمد حسین صاحب کے پاس آیا تو میں نے کہا کہ مرزا صاحب سے میں یہ اقرار لے کر آیا ہوں کہ ایک دو آیت کیا ہم قرآن شریف سے ایک سو آیت پیش کردیں گے۔جس پر مرزا صاحب مان لیں گے۔مولوی صاحب نے کہا ” جا۔وے تیری بیٹی ڈب جائے یہ اقرارتوں کیوں کر آیا ؟ مولوی نظام الدین کہتے تھے کہ میں نے جب یہ الفاظ مولوی صاحب کے منہ سے سنے تو میں سمجھا کہ مولوی صاحب کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔اس پر میں نے آکر بیعت کر لی۔حضرت صاحب اس وقت عموماً مسجد مبارک میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔جب کبھی میاں نظام الدین صاحب یہ واقعہ سنایا کرتے تھے تو حضرت صاحب سن کر بہت ہنسا کرتے تھے۔میاں نظام الدین صاحب اس واقعہ کو اکثر دوستوں کے پاس بیان کیا کرتے تھے۔کیونکہ وہ پھر قادیان میں ہی رہے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ واقعہ یوں سُنا ہوا ہے کہ جب مولوی نظام الدین صاحب نے یہ اقرار لے لیا کہ اگر حیات مسیح کے متعلق آپ کو ایک آیت بھی دکھا دی جائے تو آپ فورا مان لیں گے تو وہ بہت خوشی خوشی مولوی محمد حسین صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ میں مرزا صاحب سے یہ اقرار لے آیا ہوں اب جلدی سے مجھے چند آیات نکال دیں۔مولوی محمد حسین نے ناراض ہو کر کہا۔او بے وقوف ! ہم مرزا صاحب کو