سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 793
سیرت المہدی 793 حصہ سوم ملتانی نے کہا کہ دیکھو میر صاحب! مولوی محمد حسین بٹالوی جا رہا ہے۔میں نے پوچھا کہاں؟ تب اس نے اشارہ کیا کہ وہ دیکھو۔میں ننگے پاؤں اور ننگے سر جس طرح بیٹھا ہوا تھا اسی طرح اُن کے پیچھے بھاگا۔دیکھا تو ایک وزنی بیگ اُٹھائے مولوی صاحب اسٹیشن کی طرف جارہے ہیں۔میں نے جا کر السلام علیکم کہا اور ان کا بیگ لے لیا۔کہ میں آپ کے ساتھ لئے چلتا ہوں۔پہلے انہوں نے انکار کیا مگر میرے اس اصرار پر مجھے دیدیا کہ آپ ضعیف ہیں اور اتنا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔اس پر انہوں نے جزاک اللہ کہا اور میں ساتھ ہولیا۔راستہ میں کہا کہ میں نے ٹمٹم کا انتظار کیا مگر نہ ملی۔اگر ٹمٹم کا انتظار کرتا تو شاید گاڑی نکل جاتی۔مجھے ضروری مقدمے میں جانا ہے۔آپ نے بڑی تکلیف کی۔میں نے کہا کہ نہیں مجھے بڑی راحت ہے کہ آپ ایک معمولی سے معمولی آدمی کی طرح اتنا بوجھ اٹھائے چلے جارہے ہیں اور انى مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهانتک کی ایک نئے رنگ میں تصدیق کر رہے ہیں۔یہ فقرہ سُن کر مولوی صاحب بہت ناراض ہوئے اور مردود میرزائی کہہ کر وہ بیگ مجھ سے چھین لیا اور پھر چل پڑے مگر میں کچھ دُور اُن کے ساتھ گیا اور منت خوشامد سے بیگ پھر اٹھا لیا۔اس پر کہنے لگے کہ مرزا نے تم لوگوں پر جادو کر دیا ہے۔تم تو دیوانہ ہو گئے ہو۔اس میں کیا دھرا ہوا ہے۔ہم تو انہیں بچپن سے جانتے ہیں۔ان کے کچے چٹھے ہمیں معلوم ہیں۔میں نے کہا آج تک تو کسی نے ان کا کچا چٹھا شائع نہیں کیا۔کہنے لگے کوئی سنتا بھی ہو۔بُری بات لوگ فوراً قبول کر لیتے ہیں اور نیک بات کی طرف کان بھی نہیں دھرتے۔میں نے کہا آپ سچ فرما رہے ہیں۔ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم نے ایسا ہی برتاؤ کیا۔کیونکہ بوجھ بہت تھا اس لئے مولوی صاحب نے میرے لئے بھی پلیٹ فارم کا ٹکٹ خرید لیا اور چونکہ ریل بالکل تیار تھی۔سوار ہو کر چلے گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع میں حضرت صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے سخت مخالفت کی اور کفر کا فتویٰ لگایا اور کہا کہ میں نے ہی اسے اٹھایا تھا اور میں ہی اسے گراؤنگا۔اس وقت مولوی صاحب کی ملک میں بہت عزت تھی۔اور وہ بازار میں سے گزرتے تھے تو لوگ دور سے دیکھ کر ادب کے طور پر کھڑے ہو جاتے تھے۔اور اہل حدیث فرقہ کے تو وہ گویا امام تھے۔اس وقت حضرت صاحب کو خدا تعالیٰ نے مولوی صاحب کے متعلق الہا بتایا کہ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ