سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 790 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 790

سیرت المہدی 790 حصہ سوم ہمیں اس سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔اور آپ کئی دفعہ اپنا تبرک مجھے دیا کرتے تھے۔911 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفہ اول کے درس میں جب آیت وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِى إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي وود غَفُورٌ رَّحِيمٌ (يوسف: (۵۴) آیا کرتی تو آپ کہا کرتے تھے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے۔ایک دفعہ حضرت صاحب کے سامنے بھی یہ بات کسی دوست نے پیش کر دی۔کہ مولوی صاحب اسے اِمْرَأَةُ الْعَزِیز کا قول کہتے ہیں۔حضرت صاحب فرمانے لگے۔کیا کسی کا فریا بد کا عورت کے منہ سے بھی ایسی معرفت کی بات نکل سکتی ہے۔اس فقرہ کا تو لفظ لفظ کمال معرفت پر دلالت کرتا ہے۔یہ تو سوائے نبی کے کسی کا کلام نہیں ہوسکتا۔یہ بجز اور اعتراف کمزوری کا اور اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی صفات کا ذکر یہ انبیاء ہی کی شان ہے۔آیت کا مضمون ہی بتا رہا ہے۔کہ یوسف کے سوا اور کوئی اسے نہیں کہہ سکتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس واقعہ کا ذکر روایت نمبر ۲۰۴ میں بھی آچکا ہے۔912 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ کسی تکلیف کے علاج کے لئے اس عاجز کو یہ حکم دیا۔کہ ڈاکٹرمحمد حسین صاحب لا ہوری ساکن بھائی دروازہ سے (جو مدت ہوئے فوت ہو چکے ہیں ) نسخہ لکھوا کر لاؤ۔اور اپنا حال بھی لکھدیا۔اور بتا بھی دیا۔چنانچہ میں ڈاکٹر صاحب موصوف کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور ان سے نسخہ لا کر حضرت صاحب کو دیا۔ڈاکٹر صاحب سے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب ان سے پہلے بھی علاج کرایا کرتے تھے اور مشورہ بھی لیا کرتے تھے۔913 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب پنجاب میں طاعون کا دور دورہ ہوا اور معلوم ہوا کہ چوہوں سے یہ بیماری انسانوں میں پہنچتی ہے۔تو حضرت صاحب نے بلیوں کا خیال رکھنا شروع کر دیا بلکہ بعض اوقات اپنے ہاتھ سے دودھ کا پیالہ بلیوں کے سامنے رکھدیا کرتے تھے۔تا کہ وہ گھر میں ہل جائیں۔چنانچہ اس زمانہ سے اب تک دار مسیح موعود میں بہت سی بلیاں رہتی ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک زمانہ میں تو ہمارے گھر میں بلیوں کی اس قدر کثرت ہوگئی تھی کہ وہ