سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 789 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 789

سیرت المہدی 789 حصہ سوم مسلمان اور بڑے بڑے معزز لوگ موجود تھے۔تین گھنٹے حضور اقدس نے تقریر فرمائی۔حالانکہ بوجہ سفر دہلی کچھ طبیعت بھی درست نہ تھی۔رمضان کا مہینہ تھا۔اس لئے حضور اقدس نے بوجہ سفر روزہ نہ رکھا تھا۔اب حضور اقدس نے تین گھنٹہ تقریر جو فرمائی تو طبیعت پر ضعف سا طاری ہوا۔مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے ہاتھ سے دودھ پلایا۔جس پر نا واقف مسلمانوں نے اعتراضاً کہا کہ مرزا رمضان میں دودھ پیتا ہے اور شور کرنا چاہا۔لیکن چونکہ پولیس کا انتظام اچھا تھا۔فوراً یہ شور کرنے والے مسلمان وہاں سے نکال دیئے گئے۔اس موقعہ پر یہاں پر تین تقاریر ہوئیں۔اول مولوی سید محمد احسن صاحب کی۔دوسرے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی۔تیسرے حضور اقدس علیہ السلام کی۔پھر یہاں سے حضور امرتسر تشریف لے گئے۔وہاں سُنا ہے کہ مخالفوں کی طرف سے سنگباری بھی ہوئی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بازار میں اکیلے پھرنے کی بات تو خیر ہوئی مگر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ حضور بازار کے اندر صرف صدری میں پھر رہے تھے۔اور جسم پر کوٹ نہیں تھا کیونکہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ گھر سے باہر ہمیشہ کوٹ پہن کر نکلتے تھے۔پس اگر میر صاحب کو کوئی غلطی نہیں لگی تو اس وقت کوئی خاص بات ہوگی یا جلدی میں کسی کام کی وجہ سے نکل آئے ہوں گے یا کوٹ کا خیال نہیں آیا ہوگا۔910 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا۔کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں رہی ہوں۔گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گذر جاتی تھی۔مجھ کو اس اثنا میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا۔پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند ، نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔اسی طرح جب مبارک احمد صاحب بیمار ہوئے تو مجھ کو ان کی خدمت کے لئے بھی اسی طرح کئی راتیں گزارنی پڑیں۔تو حضور نے فرمایا کہ زینب اس قدر خدمت کرتی ہے کہ