سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 788
سیرت المہدی 788 حصہ سوم تھی کہ جو نہی میں نے کتاب کھولی تو پہلے وہی صفحہ نکلا جس میں یہ الہام اور تشریحی نوٹ درج تھا۔میں نے وہ کتاب وکیل صاحب کو پڑھنے کے لئے دی۔یہ نوٹ پڑھکر وکیل صاحب کو تو بہت ندامت ہوئی۔لیکن مجھے اب تک اپنی اس جسارت پر تعجب آتا ہے کہ میں حضور کی موجودگی میں اس طرح بول پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سارے عرصہ میں خاموش رہے۔یہ واقعہ کھانے کے درمیان میں ہوا تھا۔اس وقت حضرت صاحب کے چہرہ پر خوشی نمایاں تھی۔حضور نے اپنے سامنے والی قیمہ کی رکابی مجھے عنایت کر کے فرمایا کہ آپ اس کو کھالیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام میں ” بمنزلة ولد “ کہا گیا ہے نہ کہ ولد جس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے اسی طرح محبت کرتا ہے اور اسی طرح آپ کی حفاظت فرماتا ہے جس طرح ایک باپ اپنے بچے کےساتھ کرتا ہے۔909 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ خاکسارلدھیانہ محلہ اقبال گنج میں حضرت اقدس علیہ السلام کے پاس بیٹھ کر اپنے محلہ صوفیاں میں واپس گھر آیا۔اور پھر کسی کام کے لئے جو بازار گیا تو حضور علیہ السلام چوڑا بازار میں صرف اکیلے ہی بڑی سادگی سے پھر رہے تھے۔اور اس وقت صرف واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔کوٹ نہ تھا۔واللہ اعلم کس خیال میں پھر رہے تھے۔ورنہ حضور کو اکیلے پھرتے لدھیانہ میں نہ دیکھا تھا۔اور خاکسار بھی اسی خیال سے سامنے نہ ہوا کہ شاید کوئی بھید ہو گا۔پھر اسی لدھیانہ میں خاکسار نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ جب حضرت اقدس علیہ السلام دہلی سے واپس لدھیانہ تشریف لائے تو حضور کی زیارت کے لئے اس قد راسٹیشن پر ہجوم ہو گیا تھا کہ بڑے بڑے معزز لوگ آدمیوں کی کثرت اور دھکا پیل سے زمین پر گر گئے تھے اور پولیس والے بھی عاجز آگئے تھے۔گردوغبار آسمان کو جارہا تھا اور حضور اقدس علیہ السلام نے بھی بڑی محبت سے لوگوں کو فرمایا:۔کہ ہم تو یہاں چوبیس گھنٹے ٹھہریں گے، ملنے والے وہاں قیامگاہ پر آجائیں۔ایک وقت اکیلے یہاں پھرتے دیکھا اور پھر یہ بھی دیکھا کہ اس قدر ہجوم آپ کی زیارت کے لئے جمع ہو گیا تھا۔اس مؤخر الذکر سفر میں حضور علیہ السلام نے لدھیانہ میں ایک لیکچر دیا۔جس میں ہندو، عیسائی،