سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 782
سیرت المہدی 782 حصہ سوم قوم سے باہر رشتہ نہیں ہونا چاہئے غلطی ہے۔اور کفو سے مراد اپنے تمدن اور حیثیت کے مناسب حال لوگ ہیں۔خواہ وہ اپنی قوم میں سے ہوں یا غیر قوم سے۔895 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ اول اول جب میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔تو آپ نے فرمایا کہ آپ کو ہمارے پاس بار بار آنا چاہئے تا کہ ہمارا فیضان قلبی اور صحبت کے اثر کا پر تو آپ پر پڑ کر آپ کی روحانی ترقیات ہوں۔میں نے عرض کی کہ حضور ملازمت میں رخصت بار بار نہیں ملتی۔فرمایا۔ایسے حالات میں آپ بذریعہ خطوط بار بار یاد دہانی کراتے رہا کریں۔تاکہ دُعاؤں کے ذریعہ توجہ جاری رہے۔کیونکہ فیضانِ الہی کا اجرا قلب پر صحبت صالحین کے تکرار یا بذریعہ خطوط دُعا کی یاددہانی پر منحصر ہے۔896 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری بڑی لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قہوہ پی رہے تھے کہ حضور نے مجھ کو اپنا بچا ہوا قہوہ دیا۔اور فرمایا۔زینب یہ پی لو۔میں نے عرض کی۔حضور یہ گرم ہے باور مجھ کو ہمیشہ اس سے تکلیف ہو جاتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارا بچا ہوا قہوہ ہے ہم پی لو۔کچھ نقصان نہیں ہو گا۔میں نے پی لیا۔اور اس کے بعد پھر بھی مجھے قہوہ سے تکلیف نہیں ہوئی۔897 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ عربی کی دولغت کی کتابیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش نظر سب سے زیادہ رہتی تھیں۔چھوٹی لغتوں میں سے صراح تھی اور بڑی لغات میں سے لسان العرب۔آپ یہی دولختیں زیادہ دیکھتے تھے۔گو کبھی کبھی قاموس بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔اور آپ لسان العرب کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے۔898 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ ایک دن حضرت مسیح موعود کے مکان کی مہترانی ایک حصہ مکان میں صفائی کر کے آئی۔حضرت صاحب اس وقت دوسرے حصہ میں تھے۔آپ نے اس سے فرمایا کہ تو نے صفائی تو کی مگر اس صحن میں جو نجاست پڑی تھی وہ نہیں اٹھائی۔اس مہترانی نے کہا کہ جی میں تو سب کچھ