سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 776
سیرت المہدی 776 حصہ سوم حضرت صاحب کی ہی تھی اور وہ صرف شرارت کر رہے تھے۔یہ وہ مکان تھا جس میں مولوی شیر علی صاحب سالہا سال تک رہتے رہے ہیں اور اب اس میں نواب صاحب کا مکان ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یاد ہے کہ اسی رنگ میں ایک دفعہ موجودہ مدرسہ احمدیہ کی عمارت کا ایک کمرہ بھی راتوں رات تیار ہوا تھا۔دراصل مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین صاحبان محض سینہ زوری سے حضرت صاحب کے بعض مملکات سے حضور کو محروم کرنا چاہتے تھے اور حضرت صاحب فساد سے بچتے ہوئے رُک جاتے تھے لیکن جب ان لوگوں کی قادیان سے غیر حاضری کی وجہ سے موقعہ ملتا تھا تو جلدی جلدی عمارت کھڑی کر دی جاتی تھی۔881 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قادیان کے سادات میں ایک صاحب سید محمد علی شاہ صاحب تھے۔وہ مقامی غیر احمد یوں میں اور حکام میں بھی کچھ اثر ورسوخ رکھتے تھے اور قادیان کے رہنے والے مسلمانوں میں معزز بھی تھے۔انہوں نے کئی دفعہ بیعت کا ارادہ ظاہر کیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت نہ لی۔فرمایا جب آپ نے ہمیں مان لیا اور بیعت کا ارادہ کر لیا تو آپ مرید ہی ہیں مگر بیعت ہم اس وجہ سے نہیں لیتے کہ آپ موجودہ حالات میں جماعت سے باہر رہ کر بہتر طور پر خدمت بجالا سکتے ہیں۔جو جماعت کے آدمی سر انجام نہیں دے سکتے چنانچہ وہ ایسا ہی کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ انہوں نے بالآخر بیعت کر لی تھی اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں حضرت عباس کو بھی اسی قسم کے حالات میں کچھ عرصہ اپنے اسلام کو مخفی رکھنا پڑا تھا۔یعنی وہ آپ کے منشاء کے ماتحت ظاہر طور پر ایمان لانے سے رُکے رہے تھے۔882 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میرے گھر سے یعنی والدہ ولی اللہ شاہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور مرد تو آپ کی تقریر بھی سنتے ہیں اور درس بھی سنتے ہیں۔لیکن ہم مستورات اس فیض سے محروم ہیں۔ہم پر کچھ مرحمت ہونی چاہئے۔کیونکہ ہم اسی غرض سے آئے ہیں کہ کچھ فیض حاصل کریں۔حضور بہت خوش