سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 769
سیرت المہدی 769 حصہ سوم کسی اور خیال میں مستغرق ہوتے تھے۔اور بعض اوقات مجلس میں بیٹھے ہوئے بھی مجلس سے جُدا ہوتے تھے۔868 بسم اللہ الرحمن الرحیم سیٹھی غلام نبی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء کی بات ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا اور ازالہ اوہام وغیرہ تصنیف فرمایا۔تو اس وقت میں نہیں جانتا تھا کہ مرزا صاحب کون ہیں۔ایک دفعہ میں بخار کے عارضہ سے بیمار تھا کہ چوہدری محمد بخش صاحب چچا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم را ولپنڈی تشریف لائے اور میرے پاس ذکر کیا کہ تم کو نئی بات سُنائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوی کیا ہے کہ میں مسیح موعود اور مہدی ہوں۔میں نے دریافت کیا کہ مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب کا کیا حال ہے۔انہوں نے جواب دیا۔کہ وہ تو دونوں مان گئے ہیں۔میں نے کہا کا رڈلاؤ۔چنانچہ میں نے بلا تو قف بیعت کا خط لکھدیا۔جب بیماری سے اُٹھا اور دارالامان آیا تو سکتے والے نے ایک مکان پر اتار دیا۔دیکھا تو مرزا امام دین تخت پوش پر بیٹھے ہوئے بوہڑ کے نیچے حقہ پی رہے تھے۔ان سے دریافت کیا کہ مرزا صاحب کہاں ہیں۔تو انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو۔میں نے بتایا کہ راولپنڈی سے آیا ہوں۔جس پر انہوں نے بتایا کہ مرزا صاحب اس ساتھ والے مکان میں ہیں۔میں دروازہ پر آیا تو شیخ حامد علی صاحب مرحوم باہر آئے اور مجھے اندر بالا خانہ پر لے گئے۔اوپر جا کر دیکھا کہ ایک چار پائی بان سے بنی ہوئی تھی۔اور ایک پرانا میز تھا۔جس پر چند ایک پرانی کتابیں پڑی ہوئی تھیں اور فرش پر ایک چٹائی بچھی ہوئی تھی۔پاس ہی ایک گھڑا پانی کا تھا۔ایک پرانا صندوق جس کا رنگ غالباً سبز تھا وہ بھی پڑا تھا۔حضرت صاحب کھڑے تھے۔میں نے جا کر السلام علیکم عرض کیا۔حضرت صاحب نے سلام کا جواب دیا اور مصافحہ کر کے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔میں نے ادب کی خاطر عرض کیا کہ حضور آپ تو کھڑے ہیں اور میں چار پائی پر بیٹھ جاؤں۔اتنے میں ایک مستری صاحب آگئے انہوں نے کہا کہ حکم مانو اور جس طرح حضرت صاحب فرماتے ہیں اسی طرح کرو۔اس پر میں چار پائی پر بیٹھ گیا۔حضرت جی نے صندوق کھولا اور مصری نکال کر گلاس میں ڈالی اور پانی ڈال کر قلم سے ہلا کر آپ نے دست مبارک سے یہ شربت کا گلاس مجھے دیا اور فرمایا کہ آپ گرمی میں آئے ہیں یہ شربت پی لیں۔لیکن میں حیران تھا کہ یا الہی ہم نے تو بہت پیر دیکھے ہیں۔یہتو بالکل سادہ انسان ہے۔کوئی