سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 767
سیرت المہدی 767 حصہ سوم گیا اور اس نے بعض آخری کتب لکھیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر منظور صاحب نے صرف خدمت کی خاطر اور حضرت صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کتابت سیکھی تھی اور خط میں ایک نیا طریق ایجاد کیا تھا۔جو بہت صاف اور خوبصورت اور کھلا کھلا تھا۔مگر افسوس ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد جوڑوں کی تکلیف کی وجہ سے معذور ہو گئے۔پیر صاحب حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانوی کے صاحبزادے ہیں اور نہایت صوفی مزاج بزرگ ہیں۔قاعدہ یسر نا القرآن انہی کا ایجاد کردہ ہے۔جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی ایک نظم میں تعریف فرمائی ہے۔863 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اپنا باغ ٹھیکہ پر دیتے تھے تو پھل کی کچھ جنس ضرور اپنے لئے مقرر فرمالیتے تھے۔بیدانہ شہتوت کے موسم میں دو تین دفعہ سب حاضر الوقت احباب کو لے کر ضرور باغ کی طرف سیر کے لئے جاتے تھے اور تازہ بیدا نہ تڑوا کر سب کے ہمراہ نوش فرمایا کرتے تھے۔وہ چادر جس میں ٹھیکیدار بیدا نے گرایا کرتا تھا۔اسی طرح لا کر سب کے سامنے رکھدی جاتی تھی۔اور سب احباب اس چادر کے گرد حلقہ باندھکر بیٹھ جاتے اور شریک دعوت ہوتے۔اور آپ بھی سب کے ساتھ ملکر بالکل بے تکلفی کے رنگ میں نوش فرماتے۔864 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔والدہ صاحبہ عزیز مرزا رشید احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے اپنی پھوپھی صاحبہ سے سُنا ہوا ہے کہ اگر کبھی کوئی عورت بچپن میں حضرت صاحب کے متعلق سندھی کا لفظ استعمال کرتی تھی تو دادا صاحب بہت ناراض ہوتے تھے۔کہ میرے بیٹے کا نام بگاڑ دیا ہے۔اس طرح نہ کہا کرو۔بلکہ اصل نام لے کر پکارا کرو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حصہ اول طبع دوم کی روایت نمبر 51 میں لفظ سندھی کے متعلق ایک مفصل نوٹ گذر چکا ہے جو قابل ملاحظہ ہے۔جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ ہندی میں سندھی کے معنے جوڑا پیدا ہونے والے کے ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود تو ام پیدا ہوئے تھے اس لئے بعض عورتیں آپ کو بچپن میں کبھی کبھی اس نام سے پکار لیتی تھیں۔مگر چونکہ اس طرح اصل نام کے بگڑنے کا احتمال تھا اس لئے دادا صاحب منع