سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 71
سیرت المہدی 71 حصہ اوّل سے معافی چاہتا ہوں۔” اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّى - اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي - اسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّ أَتُوبُ إِلَيْهِ ، أَشْهَدُانْ لَّا إِلهُ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِى وَ اعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِى فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر مصافحہ کے طریق پر بیعت کنندگان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے تھے لیکن بعض لوگوں سے آپ نے پنجہ کے اوپر کلائی پر سے بھی ہاتھ پکڑ کر بیعت لی ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ میری بیعت آپ نے اسی طرح لی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ بیعت اولیٰ کے دن مولوی عبدالکریم صاحب بھی وہیں موجود تھے مگر انہوں نے بیعت نہیں کی۔(مزید تشریح کے لئے دیکھ حصہ دوم۔روایت نمبر ۳۱۵،۳۰۹) و بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ لدھیانہ میں پہلی دفعہ بیعت لے کر یعنی ابتداء ۱۸۸۹ء میں حضرت صاحب علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔میں اور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔حضرت صاحب سید تفضل حسین صاحب تحصیل دار کے مکان پر ٹھہرے جوان دنوں دفتر ضلع میں سپر نٹنڈنٹ تھے۔وہاں ایک تحصیل دار نے جو سید صاحب کا واقف تھا حضرت صاحب کی دعوت کی اور شہر کے دوسرے معززین کو بھی مدعو کیا۔حضور تشریف لے گئے اور ہم تینوں کو حسب عادت اپنے دائیں بائیں بٹھایا۔تحصیلدار صاحب نے کھانے کے لئے چوکیوں یعنی چھوٹے چھوٹے تخت پوشوں کا انتظام کیا تھا جن پر کھانا رکھا گیا اور لوگ ان کے گرد بیٹھ گئے۔چوکیوں پر سنچ کے گلاسوں میں گلدستے رکھے ہوئے تھے۔جب کھانا شروع ہوا تو میر عباس علی نے کھانا کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ خاموش بیٹھے رہے۔حضرت صاحب نے ان سے دریافت کیا میر صاحب آپ کیوں نہیں کھاتے ؟ انہوں نے کہا یہ نیچریوں کے طریق کا کھانا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں اس میں کوئی حرج نہیں یہ خلاف شرع نہیں ہے۔میر صاحب نے کہا میرا تو دل نہیں چاہتا۔حضرت صاحب نے فرمایا میر صاحب! ہم جو کھاتے ہیں۔میر صاحب نے کہا حضرت آپ کھائیں میں تو نہیں کھاتا۔غرض میر عباس علی نے کھانا نہیں کھایا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ جب عباس علی مرتد ہوا تو مجھے یہ بات یاد آئی کہ وہ تو دراصل اسی وقت سے