سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 762
سیرت المہدی 762 حصہ سوم قتل ہوئے اسی طرح سید احمد صاحب بریلوی بھی قتل ہوئے۔اور اس طرح خدا نے دونوں سلسلوں کے میحوں میں ایک مزید مشابہت پیدا کر دی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قرآن شریف سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ہر چیز اپنے آگے اور پیچھے دونوں طرف کسی نہ کسی رنگ میں اثر پیدا کرتی ہے اور نبوت کا یہ اثر ہے کہ اس سے پہلے ارہاص کا سلسلہ ہوتا ہے اور بعد میں خلافت کا۔گویا نبوت کا وجود اپنے کمال میں تین درجوں میں ظاہر ہوتا ہے۔پہلا درجہ ارہاص کا ہے جسے گویا کہ یوں سمجھنا چاہئے کہ جیسے سورج کے نکلنے سے پہلے شفق میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔دوسرا درجہ نبوت کا ہے جو اصل نور اور ضیاء کا مقام ہے۔اور اس کے بعد تیسرا درجہ خلافت کا ہے جو نبی کے گذر جانے کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ارہاص کے اظہار کی صورت مختلف رنگوں میں ہو سکتی ہے یعنی بعض اوقات تو کسی بڑے نبی سے پہلے کسی چھوٹے نبی یا ولی یا مجد دکو نبی کے لئے راستہ صاف کرنے کے واسطے بھیجا جاتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح ناصری اور حضرت مسیح موعود کے وقت میں ہوا۔اور بعض اوقات کوئی خاص فرد مبعوث نہیں ہوتا۔بلکہ اللہ تعالے ایسی رو چلا دیتا ہے جس سے بعض سعید فطرتیں متاثر ہوکر نور نبوت کی تیاری میں لگ جاتی ہیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔یعنی آپ کی بعثت سے پہلے عرب میں چند افراد ایسے پیدا ہو گئے۔جو شرک سے منتظر ہو کر خدائے واحد کی تلاش میں لگ گئے اور اپنے آپ کو حنیفی “ کہہ کر پکارتے تھے۔اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ارہاص ہر دو رنگوں میں ظاہر ہوتا ہے۔یعنی کسی فرد کی بعثت کی صورت میں بھی۔اور ایک رو کی صورت میں بھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ارہاص کے لفظی معنے بنیادرکھنے یا کسی چیز کو مضبوط کرنے کے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ سلسلہ ارہاص کے ذریعہ نور نبوت کی ابتدائی داغ بیل قائم کرتا ہے۔اس لئے اس سلسلہ کو یہ نام دیا گیا۔اور خلافت کے لفظ کی حقیقت ظاہر ہی ہے کہ نبی کی وفات کے بعد جو سلسلہ خلفاء کا نبی کے کام کو جاری رکھنے اور تکمیل تک پہنچانے کے لئے قائم ہوتا ہے۔وہ خلافت ہے۔جس کے لفظی معنے کسی کے پیچھے آنے اور قائم مقام بننے کے ہیں۔واللہ اعلم۔857 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی