سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 758 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 758

سیرت المہدی 758 حصہ سوم تھے۔جس کے آخر میں دُعا یہی ہے۔وفا یہی ہے۔وغیرہ آتا ہے۔تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی بڑی بیوی مولویانی مرحومہ کسی کام کی غرض سے حضرت صاحب کے پاس آئیں۔حضرت صاحب نے ان سے فرمایا کہ میں ایک نظم لکھ رہا ہوں۔جس میں یہ یہ قافیہ ہے آپ بھی کوئی قافیہ بتا ئیں۔مولویانی مرحومہ نے کہا۔ہمیں کسی نے پڑھایا ہی نہیں۔تو میں بتاؤں کیا۔حضرت صاحب نے ہنس کر فر مایا کہ آپ نے بتا تو دیا ہے اور پھر بھی آپ شکایت کرتی ہیں کہ کسی نے پڑھایا نہیں۔مطلب حضرت صاحب کا یہ تھا کہ ” پڑھایا نہیں“ کے الفاظ میں جو پڑھا“ کا لفظ ہے۔اسی میں قافیہ آ گیا ہے۔چنانچہ آپ نے اسی وقت ایک شعر میں اس قافیہ کو استعمال کر لیا۔847 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموما گرم پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا۔کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹنا کھدے۔اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھدیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فارغ ہو کر باہر تشریف لائے۔تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا۔جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا۔تو آپ نے اُسے بلوایا۔اور اُسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا۔اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے اس لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا تا کہ اُسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال نہیں ہوسکتا۔اس کے سوا آپ نے اُسے کچھ نہیں کہا۔848 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم گھر کی چند لڑ کیاں تربوز کھا رہی تھیں۔اس کا ایک چھلکا مائی تابی کو جالگا۔جس پر مائی تابی بہت ناراض ہوئی۔اور ناراضگی میں بددعا ئیں دینی شروع کر دیں۔اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا کر شکایت بھی کر دی۔اس پر حضرت صاحب نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی ہے۔ہم نے سارا واقعہ سُنا دیا۔جس پر آپ مائی تابی پر ناراض ہوئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بددعا کی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی تابی قادیان کے قریب کی ایک بوڑھی عورت تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہتی تھی اور اچھا اخلاص رکھتی تھی۔مگر ناراضگی میں عادت بد دعائیں دینے لگتی تھی۔نیز