سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 70 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 70

سیرت المہدی 70 حصہ اوّل مناسب موقع پر میرا یہ اشتہار بیعت پڑھ کر سنادیں اور میں خود بھی آپ کے لیکچر میں آؤں گا۔اس نے وعدہ کر لیا۔چنانچہ حضرت صاحب اس کے وعظ میں تشریف لے گئے لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور حضور کا اشتہار نہ سنایا بلکہ جس وقت لوگ منتشر ہونے لگے اس وقت سنایا مگر اکثر لوگ منتشر ہو گئے تھے۔حضرت صاحب کو اس پر بہت رنج ہوا فرمایا ہم اس کے وعدہ کے خیال سے ہی اس کے لیکچر میں آئے تھے کہ ہماری تبلیغ ہوگی ورنہ ہمیں کیا ضرورت تھی۔اس نے وعدہ خلافی کی ہے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ پھر تھوڑے عرصہ کے اندر ہی وہ مولوی چوری کے الزام کے نیچے آکر سخت ذلیل ہوا۔198 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت صاحب نے پہلے دن لدھیانہ میں بیعت لی تو اس وقت آپ ایک کمرہ میں بیٹھ گئے تھے اور دروازہ پر شیخ حامد علی کو مقر رکر دیا تھا۔اور شیخ حمد علی کو کہ دیا تھا کہ جسے میں کہتا جاؤں اسے کمرہ کے اندر بلاتے جاؤ چنانچہ آپ نے پہلے حضرت خلیفہ اول کو بلوایا ان کے بعد میر عباس علی کو پھر میاں محمد حسین مراد آبادی خوش نویس کو اور چوتھے نمبر پر مجھ کو اور پھر ایک یا دو اور لوگوں کو نام لے کر اندر بلایا پھر اس کے بعد شیخ حامد علی کو کہہ دیا کہ خود ایک ایک آدمی کو اندر داخل کرتے جاؤ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں حضور ایک ایک کی الگ الگ بیعت لیتے تھے لیکن پھر بعد میں اکٹھی لینے لگ گئے۔اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ پہلے دن جب آپ نے بیعت لی تو وہ تاریخ ۲۰ / رجب ۱۳۰۶ هجری مطابق ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ تھی کہ ور اس وقت بیعت کے الفاظ یہ تھے۔” آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے تو بہ کرتا ہوں جن میں میں مبتلا تھا اور سچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں گا اور دین کو دنیا کے آراموں اور نفس کی لذات پر مقدم رکھونگا اور ۱۲ جنوری کی دس شرطوں پر حتی الوسع کار بند رہوں گا اور اب بھی اپنے گذشتہ گناہوں کی خدا تعالیٰ لے جو ابتدائی رجسٹر بیعت کنندگان مجھے حال ہی میں ملا ہے اس کے اندراج کے لحاظ سے ان کا نام نمبرا اپر درج ہے (سیرت المہدی حصہ سوم ) رجسٹر بیعت کنندگان سے پہلے دن کی بیعت ۱۹ار رجب اور ۲۱ / مارچ ظاہر ہوتی ہے۔یعنی نہ صرف تاریخ مختلف ہے بلکہ قمری اور شمسی تاریخوں کا مقابلہ بھی غلط ہو جاتا ہے اس اختلاف کی وجہ سے میں نے گزشتہ جنتری کو دیکھا تو وہاں سے مطابق زبانی روایت ۲۰ / رجب کو ۲۳ مارچ ثابت ہوئی ہے۔پس یا تو رجسٹر کا اندراج چند دن بعد میں ہونے کی وجہ سے غلط ہو گیا ہے اور یا اس ماہ میں چاند کی رویت جنتری کے اندراج سے مختلف ہوئی ہوگی۔واللہ اعلم