سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 69 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 69

سیرت المہدی 69 حصہ اوّل کئے گئے ہیں۔بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریا کی وفات کے بعد سے اس کی میعادشمار ہوتی ہے۔کیونکہ ملکہ کے لئے حضور نے بہت دعائیں کی تھیں۔بعض اور معنے کرتے ہیں۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اس کی میعاد شروع ہوتی ہے۔چنانچہ وہ کہتے تھے کہ واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں اور واقعات کے ظہور کے بعد ہی میں نے اس کے یہ معنی سمجھے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے اس کی میعاد شمار کی جاوے کیونکہ حضرت صاحب نے اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لئے بطور حرز کے بیان کیا ہے پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنا میرے خیال میں درست نہیں۔اس طرح جنگ عظیم کی ابتدا اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے ہیں۔واللہ اعلم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات ہیں ہمیں دعا کرنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔( نیز اس روایت کی مزید تشریح کے لئے دیکھو حصہ دوم۔روایت نمبر ۳۱۴) 97 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ میں بیعت کا اعلان کیا تو بیعت لینے سے پہلے آپ شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کے بلانے پر اس کے لڑکے کی شادی پر ہوشیار پور تشریف لے گئے۔میں اور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔راستہ میں یکہ پر حضور نے ہم کو اپنے اس چلہ کا حال سنایا جس میں آپ نے برابر چھ ماہ تک روزے رکھے تھے۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے ایک چھینکا رکھا ہوا تھا اسے میں اپنے چو بارے سے نیچے لٹکا دیتا تھا تو اس میں میری روٹی رکھدی جاتی تھی پھر اسے میں اوپر کھینچ لیتا تھا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ شیخ مہر علی نے یہ انتظام کیا تھا کہ دعوت میں کھانے کے وقت رؤسا کے لئے الگ کمرہ تھا اور ان کے ساتھیوں اور خدام کے واسطے الگ تھا مگر حضرت صاحب کا یہ قاعدہ تھا کہ اپنے ساتھ والوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ بٹھایا کرتے تھے چنانچہ اس موقعہ پر بھی آپ ہم تینوں کو اپنے داخل ہونے سے پہلے کمرہ میں داخل کرتے تھے اور پھر خود داخل ہوتے تھے اور اپنے دائیں بائیں ہم کو بٹھاتے تھے۔انہی دنوں میں ہوشیار پور میں مولوی محمودشاہ چھچھ ہزا روی کا وعظ تھا جو نہایت مشہور اور نامور اور مقبول واعظ تھا۔حضرت صاحب نے میرے ہاتھ بیعت کا اشتہار دے کر انہیں کہلا بھیجا کہ آپ اپنے لیکچر کے وقت کسی