سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 750 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 750

سیرت المہدی 750 حصہ سوم امتحان دینے کے لئے لاہور گئے تو جہاں دوسرے امیدوار مقیم تھے وہاں ہی مرزا صاحب ٹھہر گئے۔ان امیدواروں میں سے کوئی بی۔اے تھا اور کوئی ایم۔اے تھا اور کوئی ایل ایل بی تھا۔ان ایام میں ایک رات مرزا سلطان احمد صاحب ذرا جلدی لیٹ گئے۔دوسرے امیدوار ابھی جاگ رہے تھے۔انہوں نے آپ کو سو یا ہو سمجھ کر آپس میں مذاق شروع کر دیا۔کہ ان مرزا صاحب کو بھی امتحان کا شوق چرایا ہے۔ایسے ایسے قابل لوگوں کو تو پاس ہونے کی امید نہیں اور یہ خواہ مخواہ امتحان میں آکو دے۔ان کی یہ گفتگو سن کر مرزا صاحب نے دل میں کہا۔کہ میں حضرت والد صاحب کو دعا کے واسطے کہہ تو آیا ہوں۔اور آپ نے دعا کا وعدہ بھی کیا تھا۔ضرور دعا کرینگے۔خدا کرے کہ میں کامیاب ہو جاؤں تا کہ ان لوگوں کے مذاق کا جواب مل جائے۔انہی خیالات میں آپ سو گئے اور قریباً چار بجے صبح کو آپ نے خواب دیکھا کہ حضرت صاحب تشریف لائے اور آپ نے مرزا سلطان احمد کو ہاتھ سے پکڑ کر کرسی پر بٹھا دیا ہے۔یہ خواب دیکھ کر مرزا سلطان احمد صاحب کی آنکھ کھل گئی۔اور انہوں نے خود ہی اس خواب کی تعبیر کی کہ میں ضرور کامیاب ہو جاؤنگا۔اتنے میں دیگر امیدوار بھی بیدار ہو گئے۔اور مرزا سلطان احمد صاحب نے ان کو کہا کہ دیکھورات تم لوگ میرا مذاق اُڑا رہے تھے۔اب تم دیکھنا کہ میں ضرور کامیاب ہو کر آؤں گا اور تم دیکھتے رہ جاؤ گے۔انہوں نے ازراہ مذاق کہا۔کہ کیا آپ کو بھی اپنے والد صاحب کی طرح الہام ہوتا ہے۔مرزا سلطان احمد صاحب نے کہا۔بس اب تم دیکھ لینا کہ کیا ہوتا ہے چنانچہ مرزا سلطان احمد صاحب اس امتحان میں بفضلہ کامیاب ہو گئے۔اگر چہ مرزا صاحب اس وقت حضرت صاحب کی بیعت میں داخل نہ تھے۔مگر ان کو حضور کی دُعا اور وحی پر یقین اور ایمان تھا۔چنانچہ اس سے پہلے مرزا صاحب نے تحصیلداری میں کامیابی کے واسطے بھی حضرت صاحب سے دعا کرائی تھی اور پھر تحصیلدار ہو گئے تھے۔میں نے سُنا ہے کہ اس وقت انہوں نے پہلے ماہ کی تنخواہ حضرت صاحب کے پاس بھیجی۔کہ میری طرف سے لنگر خانہ میں بطور چندہ آپ قبول فرما ئیں۔مگر آپ نے اس روپیہ کے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا یہ نعمت صرف احمدی لوگوں کے لئے ہے۔ایک غیر احمدی کا چندہ اس میں نہیں لیا جاسکتا۔اگر تم دینا چاہتے ہو تو سکول میں دیدو۔کیونکہ اس میں تمہارا بیٹا بھی پڑھتا ہے۔