سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 748
سیرت المہدی 748 حصہ سوم ان کے متعلق فرماتے ہیں:۔مد تے در آتش نیچر فرو افتاده بود این کرامت ہیں کہ از آتش بروں آمد سلیم 831 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک چیرا بھائی مرزا کمال الدین تھا۔یہ شخص جوانی میں فقراء کے پھندے میں پھنس گیا تھا۔اس لئے دُنیا سے کنارہ کش ہو کر بالکل گوشہ گزین ہو گیا مگر وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح حضرت صاحب سے پرخاش نہ رکھتا تھا۔علاج معالجہ اور دم تعویذ بھی کیا کرتا تھا۔اور بعض عمدہ عمدہ نسخے اس کو یاد تھے۔چنانچہ ہماری والدہ صاحبہ میاں محمد اسحاق کے علاج کے لئے ان سے ہی گولیاں اور ادویہ وغیرہ منگایا کرتی تھیں اور حضرت صاحب کو بھی اس کا علم تھا۔آپ بھی فرماتے تھے کہ کمال الدین کے بعض نسخے اچھے ہیں۔اب مرزا کمال الدین کو فوت ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں مگر ان کے تکیہ میں اب تک فقیروں کا قبضہ ہے۔عرس بھی ہوتا ہے مگر کچھ رونق نہیں ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے چا مرزا غلام محی الدین صاحب کے تین لڑکے تھے۔سب سے بڑے مرزا امام الدین تھے جو بہت لانبے اور وجیہہ شکل تھے اور مخالفت میں بھی سب سے آگے تھے۔ان کی لڑکی خورشید بیگم صاحبہ ہمارے بڑے بھائی خان بہا در مرزا سلطان احمد صاحب کے عقد بہادرمرزا میں آئی تھیں۔اور عزیزم مرزا رشید احمد انہی کے بطن سے ہیں۔دوسرے بھائی مرزا نظام الدین تھے جن کی نسل سے مرزا گل محمد صاحب ہیں اور تیسرے بھائی مرزا کمال الدین تھے جن کا اس روایت میں ذکر ہے۔وہ ہمیشہ مجرد رہے۔مرزا کمال الدین مخالفت میں حصہ نہیں لیتے تھے۔832 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں نواب محمد علی خان صاحب نے قادیان میں ایک فونوگراف جس کے ریکارڈ موم کے سیلنڈروں کی طرح گول ہوتے تھے منگایا تھا۔اس میں حضرت خلیفہ اول نے اپنا لیکچر بھرا۔مولوی عبدالکریم صاحب نے قرآن مجید بھرا۔اسی طرح دیگر احباب نے نظمیں اور اذان وغیرہ بھریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اُسے