سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 747
سیرت المہدی 747 حصہ سوم 830 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب سرسید احمد خاں صاحب نے اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ دُعا محض ایک عبادت ہے ورنہ اس کی وجہ سے خدا اپنی قضاوقد ر کو بدلتا نہیں۔جو بہر حال اپنے مقررہ رستہ پر چلتی ہے تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رسالہ ”برکات الدعا، تصنیف کر کے شائع فرمایا اور اس میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ دعا محض عبادت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں خدا اپنی قضا وقد ر کو بدل بھی دیتا ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے اور اپنی تقدیر پر بھی غالب ہے اور اسلامی تعلیم کے ماتحت ثابت کیا کہ اس بارے میں سرسید کا عقیدہ درست نہیں ہے۔جب یہ کتاب چھپ کر تیار ہو گئی تو آپ نے اس کا ایک نسخہ سرسید کو بھی بھجوایا۔جس پر سرسید نے حضرت مسیح موعود کو ایک خط لکھا۔اور اس خط میں معذرت کے طریق پر لکھا کہ میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں اس لئے مجھ سے غلطی ہوئی اور یہ کہ جو کچھ آپ نے تحریر کیا ہے وہی درست ہوگا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دراصل روحانی معاملات میں ذاتی تجربہ نہ رکھنے کی وجہ سے سرسید نے کئی باتوں میں غلطی کھائی ہے۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ سرسید مسلمانوں کے ہمدرد تھے اور یہ بھی ان کی سعادت تھی کہ متنبہ کئے جانے پر انہوں نے قبولیت دعا کے مسئلہ میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔مگر معجزات وغیرہ کے معاملہ میں ان کا عام میلان آخر تک قائم رہا۔کہ اہل مغرب کے اعتراض سے مرعوب ہو کر فوراً تاویلات کی طرف مائل ہونے لگتے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا۔کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ سرسید اور حضرت مسیح موعود کی مثال ایسی ہے کہ جب اسلام پر کوئی اعتراض ہو تو سرسید کی حالت تو ایسی نظر آتی ہے کہ گویا ہا تھ جوڑ کر سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ نہیں سرکار! اسلام نے تو ایسا نہیں کہا۔اسلام کا تو یہ مطلب نہیں تھا بلکہ یہ تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال ایسی ہے کہ اعتراض ہونے پر گویا تلوار لے کر سامنے تن جاتے ہیں کہ جو کچھ اسلام نے کہا ہے وہی ٹھیک ہے اور جو تم کہتے ہو وہ غلط اور جھوٹ ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے یہ بہت ہی لطیف اور درست مثال دی ہے اور یہ مثال بحجتی بھی انہی کی زبان سے ہے کیونکہ وہ گھر کے بھیدی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام