سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 739
سیرت المہدی 739 حصہ سوم رب کریم کی قضا و قدر پر صبر کرتے ہیں۔تم بھی صبر کرو۔ہم سب اس کی امانتیں ہیں اور ہر ایک کام اس کا حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔والسلام مرزا غلام احمد خاکسار عرض کرتا ہے کہ کہنے کو تو اس قسم کے الفاظ ہر مومن کہ دیتا ہے۔مگر حضرت صاحب کے منہ اور قلم سے یہ الفاظ حقیقی ایمان اور دلی یقین کے ساتھ نکلتے تھے اور آپ واقعی انسانی زندگی کو ایک امانت خیال فرماتے تھے اور اس امانت کی واپسی پر دلی انشراح اور خوشی کے ساتھ تیار رہتے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ہمارے حقیقی ماموں ہیں۔اس لئے ان کے ساتھ حضرت مسیح موعود اپنے چھوٹے عزیزوں کی طرح خط و کتابت فرماتے تھے۔ان کی پیدائش ۱۸۸۱ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود نے ان کا ذکر انجام آتھم کے ۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں ۷۰ نمبر پر کیا ہے مگر چونکہ سید محمد اسمعیل دہلوی طالب علم کے طور پر نام لکھا ہے۔اس لئے بعض لوگ سمجھتے نہیں۔ست بچن میں بھی ان کا نام انہی الفاظ میں درج ہے۔811 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں پہلے کوئی کنو آں نہ تھا۔نہ مہمان خانہ میں کوئی کنواں تھا۔اس وقت پانی دو کنوؤں سے آیا کرتا تھا۔ایک تو عمالیق کے دیوان خانہ میں تھا اور دوسرا تائی صاحبہ مرحومہ کے گھر کے مردانہ حصہ میں تھا۔ایک دفعہ ہر دو جگہ سے حضرت صاحب کے سقہ کو گالیاں دے کر ہٹا دیا گیا۔اور پانی کی بہت تکلیف ہو گئی۔گھر میں بھی اور مہمان خانہ میں بھی۔اس پر حضرت صاحب نے ایک خط لکھا اور عاجز کو فرمایا۔کہ اس خط کی کئی نقلیں کر دو۔چنانچہ میں نے کر دیں۔وہ خط حضور نے مختلف احباب کو روانہ فرمائے۔جن میں ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم کا نام مجھے اچھی طرح یاد ہے۔اس خط میں مخالفین کے پانی بند کرنے کا ذکر لکھ کر یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہمارا اپنا کنوآں ہونا چاہئے تا کہ ہماری جماعت پانی کی تکلیف سے مخلصی پائے اور کنویں کے لئے چندہ کی تحریک کی تھی۔اس کے بعد سب سے پہلے حضور کے گھر کے اندر کنواں بنایا گیا۔