سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 738 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 738

سیرت المہدی 738 حصہ سوم اعتبار نہیں ہوتے۔موقعہ کو ہاتھ سے دینا سخت گناہ ہے۔اگر لڑ کی بد اخلاق ہوگی تو میں اس کے لئے دعا کر دوں گا کہ اس کے اخلاق تمہاری مرضی کے موافق ہو جائیں گے اور سب کبھی دُور ہو جائے گی۔ہاں اگر لڑ کی کو دیکھا نہیں ہے تو یہ ضروری ہے کہ اول اس کی شکل و شباہت سے اطلاع حاصل کی جائے۔لڑکپن اور طفولیت کے زمانہ کی اگر بد شکلی بھی ہو تو وہ قابل اعتبار نہیں ہوتی۔اب شکل وصورت کا زمانہ ہے۔میری نصیحت یہ ہے کہ شکل پر تسلی کر کے قبول کر لینا چاہئے۔مولود بے شک پڑھے۔آخر وہ تمہارا ہی مولود پڑھے گی۔حرج کیا ہے۔والسلام مرزا غلام احمد ( آخر صفحہ کے بعد ) مکرر یہ کہ اس خط کے پڑھنے کے بعد صاف لفظوں میں مجھے اس کا جواب ایک ہفتہ کے اندر بھیج دیں۔والدعا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ خط بیاہ شادی سے تعلق رکھنے والے امور کے متعلق ایک نہایت ہی قیمتی فلسفہ پر مبنی ہے اور یہ جو حضرت صاحب نے خط کے آخر میں مولود کے متعلق لکھا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری ممانی صاحبہ اپنے والدین کے گھر میں غیر احمدیوں کے رنگ میں مولود پڑھا کرتی تھیں۔اور غالبا ان کے والد صاحب کو اصرار ہو گا کہ وہ بدستور مولود پڑھا کریں گی۔جس پر حضرت صاحب نے لکھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔جب لڑکی بیاہی گئی اور خاوند کے ساتھ اس کی محبت ہو گئی تو پھر اس نے ان رسمی مولودوں کو چھوڑ کر بالآخر گو یا خاوند کا ہی مولود پڑھنا ہے۔سوالیسا ہی ہوا۔اور اب تو خدا کے فضل سے ہماری ممانی صاحبہ احمدی ہو چکی ہیں۔810 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مبارک احمد کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا تھا:۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عزیز مبارک احمد ۶ ارستمبر ۱۹۰۷ء بقضاء الہی فوت ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ہم اپنے