سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 68
سیرت المہدی 68 حصہ اوّل شخص کی موجودگی میں ایک نہایت زبردست تقریر فرمائی اور جس طرح جوش کے وقت آپ کا چہرہ سرخ ہو جایا کرتا تھا اسی طرح اس وقت بھی یہی حال تھا۔اس تقریر کے بعض فقرے اب تک میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔فرمایا تم عیسی کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے نیز فرمایا اب ہم تو اپنا کام ختم کر چکے ہیں۔95 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حاجی عبدالمجید صاحب لدھیانوی نے کہ ایک دفعہ حضور - لدھیانہ میں تھے۔میرے مکان میں ایک نیم کا درخت تھا چونکہ برسات کا موسم تھا اسکے پتے بڑے خوشنما طور پر سبز تھے۔حضور نے مجھے فرمایا حاجی صاحب اس درخت کے پتوں کی طرف دیکھئے کیسے خوشنما ہیں۔حاجی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔96 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ازالہ اوہام شائع ہوئی ہے حضرت صاحب لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لئے تشریف لے گئے۔میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے۔راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا شاید کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ تا ہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے۔حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے۔”سلطنت برطانیہ تا هفت سال۔بعد ازاں باشد خلاف واختلال۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا۔اور ہفت کا لفظ بھی یاد ہے۔جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔پھر جب وہ مخالف ہوا تو اس نے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے رسالہ میں شائع کیا کہ مرزا صاحب نے یہ الہام شائع کیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب اور حاجی عبدالمجید صاحب کی روایت میں جو اختلاف ہے وہ اگر کسی صاحب کے ضعف حافظہ پر بنی نہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ الہام حضور کو دو وقتوں میں دو مختلف قراءتوں پر ہوا ہو۔واللہ اعلم۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی