سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 730
سیرت المہدی 730 حصہ سوم تعلقات تھے اور میرے والد نے مولوی صاحب کو کچھ روپیہ دے رکھا تھا مگر پھر مولوی صاحب باوجود مطالبہ کے اس روپے کو واپس کرنے میں نہیں آتے تھے اور والد صاحب کی وفات کے بعد مجھے بھی ٹالتے رہے۔آخر میں نے تو زور دے کر آہستہ آہستہ وصولی کر لی۔مگر میرے غیر احمدی بھائیوں سے مولوی صاحب نے کہہ کر روپیہ معاف کرالیا۔6795 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہماری مسجد ( یعنی مسجد مبارک کو اللہ تعالیٰ نے نوح کی کشتی کا مثیل ٹھہرایا ہے۔سو یہ شکل میں بھی کشتی کی طرح ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اصلی مسجد مبارک کی بالائی منزل کشتی کی طرح ہی تھی یعنی لمبی زیادہ تھی اور چوڑی بہت کم اور اس کے پہلو میں شہ نشین تھا۔بعد کی توسیع میں وہ قریباً مربع شکل کی بن گئی ہے۔796 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ پیر منظور محمد صاحب ان سے بیان کرتے تھے کہ ایک دن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام احد یہ چوک میں کھڑے تھے تو مولوی برہان الدین صاحب جہلمی مرحوم نے عرض کیا کہ حضرت کچھ ایسا ہو کہ اندر کھل جائے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ایک بزرگ تھے۔بادشاہ نے ان کو بلوا بھیجا کہ میں تم کو اپناوز میر بنانا چاہتا ہوں۔اس بزرگ نے یہ قطعہ بادشاہ کولکھ کر بھیج دیا۔چوں چتر چنبری رُخ بختم سیاه باد آید اگر بدل ہوس تخت چنبرم زاں دم کہ یافتم خبر از ملک نیم شب صد ملک نیمروز بیک جو نمی خرم اس بادشاہ کے چتر کا رنگ سیاہ تھا۔اور اس کے ملک کا نام ملک نیمروز تھا اور بادشاہ کا لقب چنبر خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان فارسی اشعار کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر میں چنبر بادشاہ کے تخت کی ہوس کروں تو میرے بخت کا منہ بھی چنبر کے چتر کی طرح سیاہ ہو جائے۔جس وقت سے مجھے ملک نیم شب