سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 731 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 731

سیرت المہدی 731 حصہ سوم ( یعنی عبادت و تہجد گزاری) پر آگاہی ہوئی ہے۔اس وقت سے میرا یہ حال ہے کہ میں ایک سو ملک نیمروز کو ایک جو کے دانہ میں بھی خریدنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ آپ ملک نیم شب کی طرف توجہ دیں۔اس سے آپ کا اندر خود بخود کھل جائے گا۔797 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ پیر منظور محمد صاحب ان سے بیان کرتے تھے کہ جب لیکھرام کے قتل کی خبر قادیان پہنچی تو اسے سُن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے کہ مسلمانوں کے لئے یہ ایک ابتلاء ہے۔798 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے طاعون کے ایام میں ایک دوائی تریاق الہی تیار کرائی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے ایک بڑی تحصیلی یا قوتوں کی پیش کی۔وہ بھی سب پسوا کر اس میں ڈلوا دیئے۔لوگ کو ٹتے پیتے تھے۔آپ اندر جا کر دوائی لاتے اور اس میں ملواتے جاتے تھے۔کونین کا ایک بڑا ڈبہ لائے اور وہ بھی سب اسی کے اندر الٹا دیا۔اسی طرح وائینم اپی کاک کی ایک بوتل لا کر ساری الٹ دی۔غرض دیسی اور انگریزی اتنی دوائیاں ملا دیں کہ حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے کہ طبی طور پر تو اب اس مجموعہ میں کوئی جان اور اثر نہیں رہا۔بس روحانی اثر ہی ہے۔ان دنوں میں جو مریض بھی حضور کے پاس آتا۔خواہ کسی بیماری کا ہو۔اُسے آپ یہی تریاق الہی دیدیتے۔اور جہاں طاعون ہوتی وہاں کے لوگ حفظ ما تقدم کے لئے مانگ کر لے جاتے تھے۔ایک شخص کے ہاں اولاد نہ تھی اور بہت کچھ طاقت کی کمزوری بھی تھی۔اس نے دعا کے لئے عرض کیا۔آپ نے اُسے تریاق الہی بھی دی اور دعا کا وعدہ بھی فرمایا۔پھر اس کے ہاں اولا د ہوئی۔اس دوائی کا ایک کنستر بھرا ہوا گھر میں تھا۔جو سب اسی طرح خرچ ہوا۔کبھی کسی کو اس کے دینے میں بخل نہ کیا۔حالانکہ قریباً دو ہزار روپیہ کے تو صرف یا قوت ہی اس میں پڑے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کنستر میں نے بھی دیکھا تھا۔ایک پورا کنستر تھا جو منہ تک بھرا ہوا تھا بلکہ شاید اس سے بھی کچھ دوائی بڑھ رہی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طریق ہوتا تھا کہ علاج میں کسی ایک دوائی پر حصر نہیں کرتے تھے بلکہ متعدد دو یہ ملا دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ معلوم نہیں خدا