سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 728
سیرت المہدی 728 حصہ سوم ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ ہم اپنے گاؤں میں دو شخص احمدی ہیں۔کیا ہم جمعہ پڑھ لیا کریں۔حضور نے مولوی محمد احسن صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔کیوں مولوی صاحب؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا۔جمعہ کے لئے جماعت شرط ہے۔اور حدیث شریف سے ثابت ہے کہ دو شخص بھی جماعت ہیں۔لہذا جائز ہے۔حضور علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا کہ فقہاء نے کم از کم تین آدمی لکھے ہیں۔آپ جمعہ پڑھ لیا کریں۔اور تیسرا آدمی اپنے بیوی و بچوں میں سے شامل کر لیا کریں۔793 بسم الله الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبد الرحمن صاحب بی۔اے نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں شاہ نشین پر رونق افروز تھے۔میں نے عرض کی کہ بعض لوگوں نے میرے سامنے اعتراض کیا تھا کہ پنڈت لیکھر ام اور عبد اللہ آتھم کی پیشگوئیاں خدا کی طرف سے نہیں تھیں بلکہ انسانی دماغ اور منصوبہ کا نتیجہ تھیں۔میں نے انہیں یہ جواب دیا کہ اگر یہ پیشگوئیاں ظاہری عوارض اور کمزوریوں کی بناء پر ہوتیں۔تو حضور اس طرح پیشگوئی کرتے۔کہ لیکھرام جو جوان اور مضبوط اور تندرست انسان ہے۔اگر یہ رجوع کر لے تو بچایا جائے گا اور یہ کہ عبداللہ تھم جو بوڑھا اور عمر رسیدہ ہے یہ بہر حال مرے گا۔مگر حضور نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان عوارض ظاہری اور تقاضائے عمر کے اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ پیشگوئی کی کہ لیکھرام اگر چہ نوجوان اور مضبوط ہے مگر وہ مر جائیگا اور عبداللہ اعظم اگر چہ بوڑھا ہے لیکن وہ اگر رجوع کرلے تو بچایا جائے گا۔اس پر حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ واقعی یہ اچھا استدلال ہے پھر فرمایا کہ دراصل پیشگوئی کے اعلان کے بعد عبد اللہ آتھم نے جلسہ گاہ مباحثہ میں ہی رجوع کر لیا تھا اور منہ میں انگلی ڈال کر کہا تھا کہ میں نے تو حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کو دقبال نہیں کہا۔حالانکہ وہ ایسا کہہ چکا تھا۔6794 بسم اللہ الرحمن الرحیم شیخ حمد بخش صاحب بھنگالی مہاجر نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ مارچ ۱۹۰۷ء میں میں اور مولوی محمد صاحب آف مزنگ لاہور براستہ بٹالہ قادیان پیدل چل کر آئے تھے۔چونکہ مولوی محمد صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بہنوئی اور کڑم