سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 727
سیرت المہدی 727 حصہ سوم رہا۔اور جب کا نپور سے آکر دہلی طب پڑھتا تھا۔تو حضور دہلی تشریف لے گئے۔اس وقت میرا آپ پر یہی اعتقادر ہا۔پھر جب میں پنجاب میں آیا۔تو اپنے والد کو جو بوڑھے تھے۔بیعت میں داخل کروایا۔اور بیوی و دیگر رشتہ داروں کی بیعت بھی کروائی اور آپ کے ہر الہام و وحی پر میرا ایمان تھا کہ وہ صادق ہے۔رسول مقبول صلے اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے آپ کو مرتبہ نبوت ملا تھا تا کہ خدمت قرآن اور احیاء اسلام آپ کے ہاتھ سے ہواور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ جو کچھ آپ کا دعوی تھاوہ بیچ ہے۔میری پیدائش سمت بکر می ۱۹۱۴ کی ہے اور ۱۸۵۷ عیسوی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی رحیم بخش صاحب اب کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔ان کا گاؤں تلونڈی جھنگلاں قادیان سے چار میل کے فاصلہ پر جانب غرب واقع ہے۔اور خدا کے فضل سے اس گاؤں کا بیشتر حصہ احمدی ہے۔790 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ ایک عرب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بیٹھا ہوا افریقہ کے بندروں کے اور افریقن لوگوں کے لغو قصے سُنانے لگا۔حضرت صاحب بیٹھے ہوئے ہنستے رہے۔آپ نہ تو کبیدہ خاطر ہوئے اور نہ ہی اس کو ان لغو قصوں کے بیان کرنے سے روکا کہ میرا وقت ضائع ہو رہا ہے۔بلکہ اس کی دلجوئی کے لئے اخیر وقت تک خندہ پیشانی سے سنتے رہے۔791 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایام جلسہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت کچھ علیل تھی۔مگر جب آپ نے سیر فرماتے وقت دیکھا کہ بہت سے لوگ آگئے ہیں اور سننے کی خواہش سے آئے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ چونکہ دوست سننے کی نیت سے آئے ہیں۔اس لئے اب اگر کچھ بیان نہ کروں تو گناہ ہوگا۔لہذا آج کچھ بیان کرونگا۔اور فرمایا۔لوگوں میں اطلاع کر دیں۔792 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ