سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 723 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 723

سیرت المہدی 723 حصہ سوم آپ نے ایک نسخہ جس میں منڈی بوٹی۔مہندی۔عناب۔شاہترہ۔چرائتہ اور بہت سی اور مصفی خون ادویات تھیں اپنے لئے تجویز کیا۔یہ ادویہ اس كاسة المسيح “ میں شام کو بھگوئی جاتیں اور صبح مل کر اور چھان کر آپ اس کے چند گھونٹ پی لیتے اور دوسروں سے بھی کہتے کہ پیو یہ بہت مفید ہے۔یہ خاکسارا اکثر اس کو اپنی ہاتھ سے تیار کرتا تھا۔اس لئے تھوڑ اسا پی بھی لیتا تھا۔مگر اس میں بدمزگی۔بیک اور تلخی کمال درجہ کی تھی۔اکثر لوگ تو پینے سے ہی جی چراتے۔اور جو ایک دفعہ پی لیتے وہ پھر پاس نہ پھٹکتے تھے۔مگر حضور خود اس کو مدت تک پیتے رہے۔بلکہ جسے کوئی تکلیف اس قسم کی سنتے اسے اس میں سے حصہ دیتے۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے یہ خیال کر کے کہ یہ ایک بہت عمدہ دوا ہوگی۔اسے پینے کی خواہش ظاہر کی۔جس پر حضرت صاحب نے ان کو چند گھونٹ بھجوا دیئے۔مگر اس کو چکھ کر مولوی صاحب مرحوم کی حالت بدل گئی اور انہوں نے اپنی فصیح و بلیغ زبان میں اس کی وہ تعریف کی کہ سننے والے ہنس ہنس کر لوٹ گئے۔مگر حضور علیہ السلام کی طبیعت ایسی تھی کہ کیسی ہی بدمزہ ، تلخ اور ناگوار دوا ہو۔آپ کبھی اس کے استعمال سے ہچکچاتے نہ تھے اور بلا تامل پی لیتے تھے۔782 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ عمامہ کا شملہ لمبا چھوڑتے تھے۔یعنی اتنا لمبا کہ ٹرین کے نیچے تک پہنچتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ میر صاحب موصوف کی روایت بہت پختہ ہوتی ہے۔مگر جہاں تک مجھے یاد ہے آپ کا شملہ بے شک کسی قدر لمبا تو ہوتا تھا مگر اتنا لمبا نہیں ہوتا تھا کہ ٹرین سے نیچے تک جا پہنچے۔واللہ اعلم۔783 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حسن ظنی کی تاکید میں ایک حکایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر سُنایا کرتے تھے اور وہ حکایت یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک دفعہ تکبر سے توبہ کی اور عہد کیا کہ میں آئندہ اپنے تئیں سب سے ادنی سمجھا کرونگا۔ایک دفعہ وہ سفر پر گیا اور ایک دریا کے کنارے پہنچ کر کشتی کی انتظار کرنے لگا۔اس وقت اس نے کچھ فاصلہ پر دیکھا کہ ایک آدمی اور