سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 722 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 722

سیرت المہدی 722 حصہ سوم جوانی میں اور نہ اب۔بلکہ ہمیشہ اس کی طرف سے بے رغبتی رہی ہے حالانکہ نو جوانوں کو اس میں کافی شغف ہوتا ہے اور خاندان میں بھی بعض افراد کبھی کبھی ناول پڑھتے رہے ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت صاحب نے کسی کو ناول پڑھتے دیکھا ہوگا۔یا کسی اور وجہ سے ادھر توجہ ہوئی ہو گی۔جس پر بطریق انتباہ مجھے یہ نصیحت فرمائی۔اور الحمد للہ میں حضرت صاحب کی توجہ سے خدا کے فضل کے ساتھ اس لغو فعل سے محفوظ رہا۔780 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین نے ایک دن سُنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھا نوتھی۔وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔حضور کو دبانے بیٹھی۔چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی۔اس لئے اُسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں۔وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔بھا نو آج بڑی سردی ہے۔بھانو کہنے لگی۔”ہاں جی تڈے تے تہاڑی لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں۔یعنی جی ہاں جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہورہی ہے اور تمہیں پتہ نہیں لگا کہ کس چیز کو دبا رہی ہو۔مگر اس نے سامنے سے اور ہی لطیفہ کر دیا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھانو مذکورہ قادیان کے ایک قریب کے گاؤں بسرا کی رہنے والی تھی۔اور اپنے ماحول کے لحاظ سے اچھی مخلصہ اور دیندار تھی۔781 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قریباً ۱۸۹۷ء یا ۱۸۹۸ء کا واقعہ ہے کہ کہیں سے ایک بہت بڑالو ہے چینی کا پیالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آیا۔جس کی بڑائی کی وجہ سے معلوم نہیں اہل بیت نے یا خود حضرت صاحب نے اس کا نام كاسة المسیح رکھ دیا اور اسی نام سے وہ مدتوں مشہور رہا۔ان دنوں حضرت صاحب کو کچھ پھنسیوں وغیرہ کی تکلیف جو ہوئی۔تو