سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 721 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 721

سیرت المہدی 721 حصہ سوم مسجد میں بعد عصر حسب معمول حضور بیٹھے تو وہ مولوی بھی موجود تھا۔حضور میری طرف دیکھ کر خود بخودہی مسکرائے اور ہنستے ہوئے فرمایا کہ اُن علماء کو انہیں دکھلا بھی تو دو اور پھر ہنسنے لگے۔اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب کو بھی رات کا واقعہ حضور نے سُنایا اور وہ بھی ہنسنے لگے۔میں نے چراغ اور معین الدین کو بلا کر مولوی صاحب کے سامنے کھڑا کر دیا۔چراغ ایک بافندہ ان پڑھ حضرت صاحب کا نوکر تھا۔اور معین الدین صاحب ان پڑھ نابینا تھے۔جو حضرت صاحب کے پیر دبایا کرتے تھے۔وہ شخص ان دونوں کو دیکھ کر چلا گیا۔اور ایک بڑے تھال میں شیرینی لے کر آیا اور حضور سے عرض کیا کہ مجھے بیعت فرما لیں۔اب کوئی شک وشبہ میرے دل میں نہیں رہا۔اور اس کے بارہ ساتھی بھی اس کے ساتھ ہی بیعت ہو گئے۔حضرت صاحب نے بیعت اور دعا کے بعد ان مولوی صاحب کو مسکراتے ہوئے فرمایا۔کہ یہ مٹھائی منشی صاحب کے آگے رکھد و کیونکہ وہی آپ کی ہدایت کا باعث ہوئے ہیں۔6778 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔لاہور میں غالبا وفات سے ایک دن پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ آج مجھے دست زیادہ آگئے ہیں۔چنانچہ میں نے تین قطرے کلوروڈین کے پی لئے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو اسہال کی شکایت اکثر رہتی تھی۔مگر آخری مرض میں جہاں تک مجھے یاد ہے صرف وفات والے دن سے قبل کی رات اسہال لگے تھے۔مگر ممکن ہے۔کہ ایک دو روز پہلے بھی معمولی شکایت پیدا ہو کر پھر دب گئی ہو۔6779 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مجھ سے پیر منظور محمد صاحب بیان کرتے تھے۔کہ ایک دن میری مرحومہ اہلیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر سے آئیں اور کہنے لگیں کہ آج حضرت صاحب نے میاں بشیر احمد صاحب ( یعنی خاکسار مؤلف ) کو بلا کر فرمایا۔” جو تم میرے بیٹے ہو گے تو ناول نہیں پڑھو گے“۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یہ واقعہ یاد نہیں۔مگر اس روایت سے مجھے ایک خاص سرور حاصل ہوا ہے کیونکہ میں بچپن سے محسوس کرتا آیا ہوں کہ مجھے ناول خوانی کی طرف کبھی توجہ نہیں ہوئی۔نہ بچپن میں نہ