سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 720
سیرت المہدی 720 حصہ سوم اور ثانی الذکر خلافت ثانیہ میں فوت ہوئے اور مؤخر الذکر ابھی تک زندہ ہیں۔اللہ تعالے انہیں تا دیر سلامت رکھے اور ہر طرح حافظ و ناصر ہو۔آمین۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم منشی ظفر احمد صاحب کے اس اخلاص کے اظہار میں تین لطافتیں ہیں۔ایک تو یہ کہ جور تم جماعت سے مانگی گئی تھی وہ انہوں نے خود اپنی طرف سے پیش کر دی۔دوسرے یہ کہ پیش بھی اس طرح کی کہ نقد موجود نہیں تھا تو زیور فروخت کر کے روپیہ حاصل کیا۔تیسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جتایا تک نہیں کہ میں خود اپنی طرف سے زیور بیچ کر لایا ہوں۔بلکہ حضرت صاحب یہی سمجھتے رہے کہ جماعت نے چندہ جمع کر کے یہ رقم بھجوائی ہے۔دوسری طرف منشی اروڑے خاں صاحب کا اخلاص بھی ملاحظہ ہو کہ اس غصہ میں منشی ظفر احمد صاحب سے چھ ماہ ناراض رہے کہ اس خدمت کے موقعہ کی اطلاع مجھے کیوں نہیں دی۔یہ نظارے کس درجہ روح پرور ، کس درجہ ایمان افروز ہیں۔اے محمدی سلسلہ کے برگزیدہ مسیح! تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ درود اور لاکھ لاکھ سلام ہو کہ تیرا ثمر کیسا شیریں ہے۔اور اے محمدی مسیح کے حلقہ بگوشو! تم پر خدا کی لاکھ لاکھ رحمتیں ہوں کہ تم نے اپنے عہد اخلاص و وفا کو کس خوبصورتی اور جاں نثاری کے ساتھ نبھایا ہے۔6777 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اوائل میں جب میں قادیان جاتا تو اس کمرے میں ٹھہرتا تھا۔جو مسجد مبارک سے ملحق ہے اور جس میں سے ہو کر حضرت صاحب مسجد میں تشریف لے جاتے تھے ایک دفعہ ایک مولوی جو ذی علم شخص تھا۔قادیان آیا۔بارہ نمبر دار اس کے ساتھ تھے۔وہ مناظرہ وغیرہ نہیں کرتا تھا بلکہ صرف حالات کا مشاہدہ کرتا تھا۔ایک مرتبہ رات کو تنہائی میں وہ میرے پاس اس کمرہ میں آیا۔اور کہا کہ ایک بات مجھے بتائیں کہ مرزا صاحب کی عربی تصانیف ایسی ہیں کہ ان جیسی کوئی فصیح بلغ عبارت نہیں لکھ سکتا۔ضرورمرزا صاحب کچھ علماء سے مدد لے کر لکھتے ہونگے۔اور وہ وقت رات کا ہی ہو سکتا ہے تو کیا رات کو کچھ آدمی ایسے آپ کے پاس رہتے ہیں جو اس کام میں مدد دیتے ہوں۔میں نے کہا مولوی محمد چراغ اور مولوی معین الدین ضرور آپ کے پاس رات کو رہتے ہیں۔یہ علماء رات کو ضرور امداد کرتے ہیں۔حضرت صاحب کو میری یہ آواز پہنچ گئی۔اور حضور اندر بہت ہنسے۔حتی کہ مجھ تک آپ کی ہنسی کی آواز آئی۔اس کے بعد مولوی مذکور اُٹھ کر چلا گیا۔اگلے روز جب