سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 719 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 719

سیرت المہدی 719 حصہ سوم بیان کیا کہ ایک دفعہ جبکہ ابھی چھوٹی مسجد وسیع نہ ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظہر یا عصر کی نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔اس وقت ایک میں تھا اور ایک اور شخص تھا۔اس وقت حضور نے فرمایا۔خدا تعالیٰ کے حسن و احسان کا مطالعہ کرنے سے خدا تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حسن سے مراد خدا تعالیٰ کے صفات حسنہ ہیں۔اور احسان سے مرادان صفات حسنہ کا ظہور ہے یعنی خدا تعالیٰ کے وہ انعام و افضال جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا کی محبت کے یہی دو بڑے ستون ہیں۔776 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں تھے کہ میں حاضر خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا کہ اس وقت اشتہار طبع کرانے کی ضرورت ہے کیا اس کے لئے آپ کی جماعت ساٹھ روپے کا خرچ برداشت کر لے گی۔میں نے اثبات میں جواب دیا۔اور فوراً کپورتھلہ واپس آکر اپنی اہلیہ کی سونے کی تلڑی فروخت کر دی۔اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر نہ کیا۔اور ساٹھ روپے لے کر میں اُڑ گیا۔اور لدھیانہ جا کر حضور کے سامنے یہ رقم پیش کر دی۔چند روز بعد منشی اروڑا صاحب لدھیانہ آگئے۔میں وہیں تھا۔ان سے حضور نے ذکر فرمایا کہ آپ کی جماعت نے بڑے اچھے موقعہ پر امداد کی ہے۔منشی اروڑ ا صاحب نے عرض کی کہ حضور نے مجھے یا جماعت کو تو پتہ بھی نہیں۔حضور کس امداد کا ذکر فرماتے ہیں۔اس وقت منشی اروڑا صاحب کو اس بات کا علم ہوا کہ میں اپنی طرف سے روپیہ دے آیا ہوں۔اس پر وہ مجھ سے بہت ناراض ہوئے کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتلایا۔میں ثواب سے محروم رہا۔حضرت صاحب سے بھی عرض کی۔حضور نے فرمایا۔منشی صاحب خدمت کرنے کے بہت سے موقعے آئیں گے۔آپ گھبرائیں نہیں۔مگر اس بناء پرمنشی صاحب چھ ماہ تک مجھ سے ناراض رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کپورتھلہ کی جماعت ایک خاص جماعت تھی۔اور نہایت مخلص تھی۔ان میں سے تین دوست خاص طور پر ممتاز تھے۔یعنی میاں محمد خان صاحب مرحوم مینشی اروڑے خان صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب۔اوّل الذکر بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے