سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 714 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 714

سیرت المہدی 714 حصہ سوم (۱۲) ۱۸۹۷ء کے واقعات میں آپ نے جلسہ جو بلی شصت سالہ ملکہ وکٹوریہ کا ذکر نہیں کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے یہ ذہول ہوا ہے۔میر صاحب کا بیان درست ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جو بلی پر قادیان میں جلسہ ہوا تھا۔(۱۳) آپ نے ۱۹۰۱ء میں دو ماہ تک مسلسل نمازیں جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک نمازیں جمع ہوئی تھیں۔گوسنہ کے متعلق مجھے کوئی ذاتی علم نہیں تھا۔مگر اب میں نے دیکھ لیا ہے کہ یہی سنہ درست ہے۔(۱۴)۱۹۰۶ء میں حضرت خلیفة المسیح الثانی ایده الله بنصرہ العزیز کے نکاح و شادی کا ذکر ہے۔میں دونوں موقعوں پر شریک تھا۔نکاح کے لئے ہم رڑ کی گئے تھے۔اور رخصتانہ کے لئے ہم ایک لمبے عرصہ کے بعد آگرہ میں گئے تھے۔یہ یاد نہیں۔کہ یہ ایک سال کے ہی دو واقعات ہیں یا کہ سنہ بدل جاتا ہے۔(۱۵)۱۹۰۶ء میں وفات نصیر احمد کا ذکر نہیں کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کا ذکر سہوارہ گیا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا بچہ نصیر احمد ۱۹۰۶ء میں پیدا ہو کر اسی سال کے دوران میں فوت ہو گیا تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ میر صاحب نے جو نوٹ سیرۃ المہدی حصہ دوم کی روایت نمبر ۴۶۷ کے متعلق لکھا ہے اس کے علاوہ اسی روایت کے متعلق ایک نوٹ مولوی غلام احمد صاحب المعروف مجاہد کا بھی روایت نمبر ۷۶۸ میں گذر چکا ہے۔نیز خاکسارا اپنی طرف سے عرض کرتا ہے کہ ۱۸۸۵ء میں شہب آسمانی کے گرنے کا واقعہ بھی قابل اندراج ہے اور ۱۸۹۴ء میں کسوف خسوف کا واقعہ قابل اندراج ہے اور ۱۸۹۲ء میں نکاح محمدی بیگم ہمراہ مرزا سلطان محمد بیگ اور آغاز میعاد پیشگوئی قابل ذکر ہے اور ۱۹۰۱ء میں تصنیف و اشاعت اشتہار ایک غلطی کا ازالہ“ کا اندراج ہونا چاہئے۔﴿770 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں محمد طفیل صاحب ساکن دھرم سالہ نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا