سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 66 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 66

سیرت المہدی 66 حصہ اوّل کھڑ کی کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اُٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئیے۔90 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ بشیر اول کی پیدائش کے وقت میں قادیان میں تھا۔قریباً آدھی رات کے وقت حضرت مسیح موعود مسجد میں تشریف لائے اور مجھے سے فرمایا میاں عبد اللہ اس وقت ہمارے گھر میں درد زہ کی بہت تکلیف ہے۔آپ یہاں یسین پڑھیں اور میں اندر جا کر پڑھتا ہوں اور فرمایا کہ بیبین کا پڑھنا بیمار کی تکلیف کو کم کرتا ہے چنانچہ نزع کی حالت میں بھی اسی لئے یسین پڑھی جاتی ہے کہ مرنے والے کو تکلیف نہ ہو۔اور یسین کے ختم ہونے سے پہلے تکلیف دور ہو جاتی ہے۔اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے اور میں یسین پڑھنے لگ گیا تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے ابھی یسین ختم نہیں کی تھی آپ مسکراتے ہوئے پھر مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ہمارے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے۔اسکے بعد حضرت صاحب اندر تشریف لے گئے اور میں خوشی کے جوش میں مسجد کے اوپر چڑھ کر بلند آواز سے مبارک باد مبارک باد کہنے لگ گیا۔91 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب میری شادی ہوئی اور میں ایک مہینہ قادیان ٹھہر کر پھر واپس دہلی گئی تو ان ایام میں حضرت مسیح موعود نے مجھے ایک خط لکھا کہ میں نے خواب میں تمہارے تین جوان لڑکے دیکھے ہیں۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ مجھے دو یاد تھے مگر حضرت صاحب فرماتے تھے کہ نہیں میں نے تین دیکھے تھے اور تین ہی لکھے تھے۔92 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں بھی کیسا اخفا ہوتا ہے۔پسر موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا مگر ہمارے موجودہ سارے لڑ کے ہی کسی نہ کسی طرح تین کو چار کرنے والے ہیں۔چنانچہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ میاں (حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کوتو حضرت صاحب نے